فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 372
جوڑنا مطلوب ہوا اور اسی طرح قیدیوں اور قرضداروں کے لئے اور ان کے لئے جو اللہ کے راستہ میں جنگ کرتے ہیں اور مسافروں کے لئے یہ فرض اللہ کا مقرر کردہ ہے اور اللہ بہت جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے " اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کئے گئے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے :- ا فقراء فقیر کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ حاجتمند ہے جو اپنا گزارا چلا نے کیلئے دوسروں کی مدد کا محتاج ہے اور روزمرہ کی ضروریات کے لئے بھی اس کے پاس کچھ نہیں۔مساکین مسکین کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ ضرورت مند ہے جیسے حالات نے بٹھا دیا ہو بے دست دیا کہ دیا ہو گویا صورت حال کے ہاتھوں وہ بالکل بے کار ہو کر رہ گیا ہو۔مثلاً ایک اچھا بھلا کا ریگر ہے لیکن اپنے فن سے کام لینے کے لئے جن آلات کی ضرورت ہے وہ اس کے پاس نہیں اور نہ وہ کہیں سے مہیا کر سکتا ہے۔مسکین کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ وہ کسی سے اپنی حالت بیان نہیں کرتا اپنی غربت کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا گویا آیت قرآنی :- تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمُهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْعَانَا۔له کی تصویر ہے۔اس آیت میں حکومت کو بھی یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ اُسے یہ طریق اختیار نہیں کرنا چاہیئے کہ جو واویلا کر سے اس کا مطالبہ مان لیا جائے اور جو ضرورت مند ہونے کے با وجود خاموش رہے اسے نظر انداز کر دیا جائے۔-۳- کارکنان وصولی تقسیم کاره نہ کواۃ کی وصولی اور اُس کی تقسیم کا انتظام کرنے والے کارکنان کو بھی مت زکواۃ سے گزارہ دیا جا سکتا ہے۔وَالْعَامِلِینَ عَلَيْهَا سے یہی لوگ مراد ہیں۔غرض زکواۃ ه : - البقرة : ۲۷۴ :