فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 365
۴۶۵ راس گائے سے 9 ا ر اس تک کے لئے نہ کواہ اگائے دو سالہ اور دو یک تار اس کی قیمت " " سلام را ایک یک ساله السلام را یا چار یک ساله ، " " " v 114 / " V " " ۱۴۹ " اور اسی طرح آگے حساب چلتا جائے گا۔بكریوں وغیرہ کی زکواة :- بکریاں۔بھیڑیں۔چھتر سے اور دنیاں ایک ہی جنس شمار ہوتی ہیں اور ان کے نصاب اور ان کی زکواۃ کا انحصار بھی ان کی مجموعی تعداد پر ہوگا نہ کہ ہر جانور کی الگ الگ تعداد بیت۔آئندہ جہاں بکری کا لفظ آئے اس میں بکرا بکری مینڈھا۔بھیڑ۔دُنبہ ، دنبی سب شامل ہوں گے بکریوں کا نصاب ۴۰ راس ہے۔چالیس سے کم جانوروں پر زکواۃ نہیں ہے اور ان کی زکواۃ کی شرح حسب ذیل ہے :- ۴۰ رائس بکری سے ۱۲۰ راس تک کے لئے زکواۃ ، بکری یا اس کی قیمت " " بکریاں ، کریم لوگو مجھے " " ۲۰۰ ہوئے کوئی تورکی را " " اس سے اوپر ہر سو بکری پر ایک بکری بطور زکوۃ واجب ہے اور اگر بکریاں پورے سینکڑوں کی تعداد میں نہ ہوں بلکہ کم ہوں تو کسر یہ کچھ نہ گواہ نہیں ہوگی۔پس ۳۰۱ سے لے کہ ۳۹۹ بکریوں پر بھی تین بکریاں ہی زکواۃ واجب ہوگی۔کس کا یہ اصول ہر جانور اونٹ ،گائے وغیرہ کے نصاب پر عائد ہو گا۔