فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 363
۳۶۳ اکمیں من ہو۔اگر پیداوار اس سے کہ ہو تو اس پر زکواۃ عائد نہ ہوگی ہاں پیدا وار اگر اکیس مین یا اس سے زیادہ ہو تو اس کا دسواں حصہ ادا کرنا ہوگا۔اگر زمین چاہی یا نہری ہے یا چشمہ کے پانی سے سیراب ہوتی ہے تو زکوۃ کی شرح نصف عشر یعنی بینش واں حصہ ہوگی۔یہ زکواۃ تب واجب ہوگی جبکہ اس زمین سے حکومت مالیہ وصول نہ کرتی ہو اگر مالیہ لگا ہوا ہے تو پھر اصولاً زکواۃ واجب نہ ہوگی کیونکہ ایک چیز سے دومستقل ٹیکس وصول نہیں کئے جا سکتے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ اصولاً زمین کی اُسی پیداوار پر زکوۃ ہے جو قابل ذخیرہ ہے جیسے اناج خشک پھل مثلاً کھجور کشمش وغیرہ گویا جو پیداوار قابل ذخیرہ نہیں شکلاً سبزیات یا خربوزہ یا تازہ پھل وغیرہ تو اس پر زکواۃ ادا کرنا ضروری نہ ہو گا۔اگر نہ مین بٹائی پر دی گئی ہو تو مشترکہ پیداوار سے زکوۃ ادا ہو گی اس کے بعد مالک اور مزارع میں بقیہ پیدا وار تقسیم کی جائے گی۔جنگلی شہد جس کی مکھیوں کو پالنے پر انسان کا کچھ خرچ نہیں آتا اگر دنس مشکیزہ کے برابر حاصل ہو جائے تو ایک مشکیزہ بطور زکواۃ واجب ہوگی گویا شہد کا نصاب دنس مشکیزے تسلیم کیا جاتا ہے۔پالتو مکھیوں کے شہر پر زکواۃ نہیں ہے۔۔جانوروں کا نصاب زکوۃ اور شرح زکوۃ زکواۃ کے جانوروں سے مراد مویشی ہیں جیسے اونٹ، گائے، بیل، بکری، بھیڑ، چھترا دنبه وغيره۔گھوڑے۔خچر اور گدھے کے بارہ میں اختلاف ہے بعض نے انہیں اموال زکواۃ میں شامل کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا۔نیز مویشیوں پر زکوۃ تب واجب ہو گی جبکہ وہ قدرتی چرا گاہوں میں چھرا در پل رہے ہوں اور گھر میں ان کو چارہ ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے۔نصاب اونٹوں کا نصاب زکوۃ پانچ ہے۔اگر کسی کے پاس پانچ سے کم اونٹ ہوں تو اس پر نہ کواۃ واجب نہ ہوگی۔شرح زکواۃ کی تفصیل یہ ہے :-