فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 362
۳۶۲ ڈھائی سو روپے بارہ مہینے۔بہنیں روپے دس ماہ اور پانچ سو روپیہ آٹھ ماہ تک لگے ر ہے۔اس لئے :- رفتم میعاد حاصل ضرب 3000 200 = 4000 12 x 250 20 8 500 میزان 7,200 = 12, تمام ضربوں کا حاصل جمع - 7200 روپے آیا۔اس کو بارہ پر تقسیم کیا تو 720 600 روپے آئے۔لہذا 600 روپے کا چالیسواں حصہ / 15 روپے زکواۃ نکلی۔زمینوں کی پیداوار کا نصاب اور شرح زكواة علماء اسلام نے زرعی زمین کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔جس را می یعنی ان علاقوں کی زمین جن جندرا جی پر مسلمانوں نے بزور شمشیر قبضہ کیا لیکن وہاں زمین فوجیوں میں تقسیم کرنے کی بجائے حکومت کی ملکیت میں رہنے دی اور زراعت کے لئے انہیں لوگوں کو دے دی گئی جو اس پر پہلے سے قابض چلے ا رہے تھے۔ایسی زمین کی پیدا دار پر زکواۃ کی بجائے خراج یعنی مالیہ عائد ہو گا جس کی شرح حالات اور حکومت کی ضرورت کے لحاظ سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔زمین کی دوسری قسم عشری کہلاتی ہے جیسے ارض حجاز کی زمین یا جن علاقوں کی زمین مسلمان فوجیوں میں تقسیم کر دی گئی ہو اور انہیں ان کا مالک بنا دیا گیا ہو۔ایسی زمینوں کی پیداوار پر عشر یعنی دسواں حصہ بطور نہ کوۃ واجب ہو گا بشر طیکہ بارانی ہوں اور پیداوار پانچ وسق (اندازاً له : دسق ناپنے کا پیمانہ ایک دستی ۶۰ صاع ۰ ۱۲۵ لیٹر۔اس حجم کے پیمانہ میں گیہوں کی جو مقدار آتی ہے اس کے لحاظ سے با عتبار وزن ایک وسق : ٣ من و اسیر وہ تولہ ہ ماشہ ہرتی۔صاع کی مقدار کی دوسری تحقیق کے مطابق ایک وسق ٣ من ، سیرہ تو لہ ہے۔اسلام کا نظام محاصل حث)