فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 361
۳۶۱ اس میں زکوۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کے لئے مستعمل ہوتا ہے اس پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنے موجودہ زیور کی زکواۃ دیتے ہیں اور جو زر اور روپیہ کی طرح رکھا جائے اس کی زکواۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں " کے تجارت میں لگے ہوئے سرمایہ پر زکواۃ وصول کرنے کا اصل حتی اگر چہ حکومت کو ہے اور وہ ٹیکس کی مقدار کا تعین اپنی ضروریات کو مد نظر رکھ کر کرتی ہے تاہم رہنمائی کے لئے علماء امت نے سرمایہ پر تعیین زکوٰۃ کا جو اصول تجویز کیا ہے اس کا مختصر بیان خالی از فائدہ نہ ہوگا۔صنعت و تجارت میں لگے ہوئے سرمایہ میں سے صرف اُسی سرمایہ پر نہ کوہ ہے جو کاروبار کے چکر میں آتا ہے۔یعنی مال منگوانے یا بیچنے کے لئے مال تباہ کرنے پر صرف ہوتا ہے جو سرمایہ کارخانے کی مشیری - عمارات ضرورت کے دفاتر ، فرنیچر اور حساب کتاب کے رجسٹروں ہی کھاتوں اور فائلوں پر صرف ہوا ہے اس پر زکواۃ عائد نہ ہوگی۔اسی طرح بیسوں۔ٹرکوں ٹیکسیوں اور کیا یہ کے لئے تعمیر کردہ دوکانوں اور مکانوں پر صرف ہونے والا سرما یہ بھی زکواۃ سے مستثنیٰ ہے۔اسی طرح وہ اشیاء جو انسان کی حاجات اصلیہ میں خرچ ہوتی ہیں مثلا کہ ہنے کا مکان پہننے کے کپڑے گھر کا اثاثہ - فرنیچر آنے جانے کے لئے موٹر لائبریری کی کتب وغیرہ یہ خواہ کتنی ہی قیمتی ہوں اور لاکھوں روپیہ کی ہوں ان پر بھی زکواۃ عائد نہ ہوگی۔- بہر حال چلتی تجارت میں لگے ہوئے سرمایہ پر زکواۃ کا حساب اس طرح پیر ہو سکتا ہے کہ جتنا جتنا روپیہ جتنے جتنے ماہ تک تجارت میں لگایا جائے اتنے اتنے روپے اتنے اتنے مہینوں میں ضرب دے کہ تمام حاصل ضربوں کو جمع کر لیا جائے اور حاصل جمع کو بارہ پر تقسیم کر کے جو ر قسم نکلے اس کا چالیسواں حصہ زکواۃ میں دیا جائے۔مثلاً ڈھائی (۲) سور و پیه شروع سال میں تجارت پر لگایا جو آخر سال تک بارہ ماہ لگا رہا۔دو ماہ کے بعد بینش روپیہ اور لگا دیا جو آخر سال تک دنیل ماہ تجارت پر لگا رہا۔اس کے دو ماہ بعد پانچ سو روپیہ تجارت پر لگایا جو آخر سال تک آٹھ ماہ تجارت پر لگا رہا۔سال ختم ہونے پر اس طرح حساب کیا جائے۔ه : مجموعہ فتاوی احمدیہ جلد اول مثلا - الحکم ، ارنومبر نشائه۔