فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 360
Wy مویشیوں کے لئے ایک خصوصی شرط یہ بھی ہے کہ وہ باہر سرکاری چراگاہوں جنگلوں اور شاملات دیہہ میں چرتے ہوں اور اسی پر ان کا گزارہ ہو۔انہیں خود چارہ ڈالنے کی ضرورت نہ پڑتی ہونیز وہ جو تنے اور لادنے کے کام نہ آتے ہوں۔مویشیوں کی زکواۃ دراصل ایسے ممالک اور علاقوں کے ساتھ وابستہ ہے جہاں وسیع چرا گا ہیں میتر ہیں جن کے سہارے وہاں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں یہ یوڑ اور گلے پائے جاتے ہیں اور مقصد مال کمانا یا دودھ یا گوشت بر آمد کرنا ہوتا ہے یا اسی قسم کے دوسرے تجارتی اور کاروباری مقاصد کے لئے بطور پیشہ جانور پالے جاتے ہوں۔نصاب زکواۃ اور شرح زکوۃ نقدی۔سونا۔چاندی اور دوسرے ہر قسم کے سرمایہ کے لئے نصاب کا معیار چاندی ہے یعنی جب کسی پاس باون تولہ چھ ماشہ ( یا وہ تولہ چاندی ہو یا اتنار و پیہ یا سونا ہو کہ اس سے اس مقدار میں چاندی خرید کی جا سکتی ہو تو اس پر زکواۃ واجب ہوگی۔شرح زکواۃ پورے سرمایہ کا چالیسواں حصہ یا اڑھائی (۲) فی صد ہے۔مثلاً اگر بادن تولہ چھ ماشہ چاندی کی قیمت چار صد روپیہ ہے اور اتنی رقم اس کے پاس ہے تو اڑھائی فی صد کے اعتبار سے دنش روپیہ زکواۃ ادا کرنا ہو گی۔یہ وہ اموال زکواۃ ہیں جن کے لئے معیار نصاب چاندی ہے اور نصاب کی مقدار معلوم کرنے کا ذریعہ وزن ہے۔سونے چاندی کا جو زیور عورت کے ذاتی استعمال میں آتا ہے اور وہ کبھی کبھی مانگنے پر غریب عورتوں کو بھی استعمال کے لئے دے دیتی ہے اس پر زکوۃ نہیں۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- جو نہ یو ر استعمال میں آتا ہے اس کی زکواۃ نہیں ہے اور جو ر کھا رہتا ہے اور کبھی کبھی پہنا جاو سے اس کی زکواۃ دینی چاہئیے جو زیور پہنا جاوے اور کبھی کبھی غریب عورتوں کو استعمال کے لئے دیا جائے بعض کا اس کی نسبت یہ فتویٰ ہے کہ اس کی زکوۃ نہیں۔اور جو زیور پہنا جائے اور دوسروں کو استعمال کے لئے نہ دیا جائے