فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 359 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 359

۳۵۹ A : وہ معدنیات جو افراد کی تحویل میں ہوں۔مثلاً لو ہے کی کان۔تانبے کی کان ٹین کی کان - تیل کے کوئیں وغیرہ۔: اموال تجارت - صنعت و حرفت میں لگا ہوا سرمایہ۔اموال ظاہرہ سے زکواۃ وصول کرنے کا اصل حق حکومت کو ہے یہی وجہ ہے کہ جن زمینوں سے حکومت مالیہ وصول کرتی ہے یا حبس تجارتی اور صنعتی کاروبار پر نئم میں گاتی ہے ان پر مزید زکواۃ نہیں۔سوائے اس کے کہ کسی مال پر حکومت کا ٹیکس زکواۃ کی مقررہ شرح سے کم ہو اس صورت میں جو فرق ہے اُس کے حساب سے اپنے طور پر یا حکومت کے مطالبہ پر بخوشی زکوۃ ادا کرنا باعث خیر و برکت اور موجب ثواب ہوگا۔اموال باطنہ کی نگرانی حکومت کی طرف سے نہیں کی جاسکتی جیسے جمع شدہ نقد روپیہ۔زیورات مختلف قسم کے قیمتی جواہر بیش قیمت پتھر لعل - یاقوت و زمرد - ان اموال کی زکواۃ ادا کرنا ایک سچے مسلمان کی ذاتی ذمہ داری ہے۔یہ نہ کواۃ غربا ، مساکین اور مستحقین کو افراد خود اپنی مرضی سے بھی دے سکتے ہیں اور دینی انجمنوں اور اشاعت اسلام کے مرکزی اداروں کے ذریعہ بھی تقسیم کر سکتے ہیں۔زیادہ بہتر اور ہر لحاظ سے با برکت صورت یہ ہے کہ اس قسم کی ساری زکواۃ خلیفہ وقت کی خدمت میں بھجوائی جائے تاکہ ساری جماعت کے غرباء - مساکین اور مستحقین کو اس مال میں سے حصہ مل سکے یہی وجہ ہے کہ تمام علماء اقت نے یہ اصول تسلیم کیا ہے کہ زکواۃ کی تقسیم امام وقت کا حق ہے۔اے شرائط وجوبے زکوۃ زمین کی پیداوار مثلاً مختلف قسم کے غلے کھجور۔انگور شہد۔ان پر اس وقت زکواۃ واجب ہوتی ہے۔جب وہ بر آمد ہوں اور ان کا نصاب مکمل ہو۔اس کے بعد یہ پیداوار خواہ کتنے سال پڑی رہے اس پر زکواۃ عائد نہیں ہوگی۔دوسری قسم کے احوال مثلاً نقد روپیہ۔سونا - چاندی - اموال تجارت - مولیشی۔ان پر زکوۃ تب واجب ہوگی جبکہ وہ مقررہ نصاب کے برابر ہوں اور سال بھر ملکیت میں رہیں گویا جتنے سال وہ ملکیت میں رہیں گے ہر سال ان پر زکواۃ واجب ہوگی۔: تشريح الزكوة ص :