فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 358
۳۵۸ زکواۃ واجب ہے اسلام نے روپیہ کھانا منع نہیں کیا ہاں روپیہ کو بند رکھنا اور سورج نہ کرنا نا جائز قرار دیا ہے تاہم اگر کوئی شخص اپنی آئندہ کی ضروریات کے لئے بطور احتیاط کچھ روپیہ جمع کرتا ہے اور پڑے پڑھے اس پر سال گزر جاتا ہے تو اس روپیہ پر زکواۃ واجب ہو جائے گی۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- خُذْ مِنَ امْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمُ۔اسے رسول ان کے اموال میں سے زکوۃ وصول کہ اس طرح تو ان کو پاک اور ان کے تزکیہ کے سامان کر سے گا۔اموال زکواة اموال زکوۃ کی دو قسمیں ہیں۔اموال باطنہ اور اموال ظاہرہ۔اموال باطنہ یہ ہیں :- نقد روپیہ۔سونا۔چاندی خواہ کسی شکل میں ہو۔زیورات ہوں یا استعمال کی کوئی اور چیز۔اموالے ظاہرہ یہ ہیں :- الف : موکیشی مثلاً اونٹ گائے بھینس بھیڑ بکری۔مبشر طیکہ یہ باہر سرکاری چراگاہوں یا شاملات دیہہ میں چرتے ہوں اور ان کو گھر میں با قاعدہ چارہ ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے ہیے ہے :۔زمین میں پیدا ہونے والی فصلیں جیسے گندم - جو یکی، چاول - باجرہ کھجور - انگور جنگلی شہد جو کسی نے اکٹھا کیا ہو۔سے :- التوبة : ۱۳ : سه : گھوڑے اور گدھے بھی اموال زکوۃ میں شامل ہیں یا نہیں اور ان کی شرح زکواۃ کیا ہے۔یہ سوال بحث طلب ہے :۔یہ سوال بھی بحث طلب ہے کہ دوسری نقد آور فصلیں مثلا کی اس گنا تیل والے بیج۔ربڑ مختلف سبزیات - تربوز - خربوزے سرد ہے۔گرمے مختلف پھل مثلاً سیب - ام مالٹے کنوں میٹھے۔کیلا۔بادام - اخروٹ پستہ چلغوز سے وغیرہ۔اس قسم کی پیداوار پر زکواۃ ہے یا نہیں اس مسئلہ کو زیر غور لایا جا سکتا ہے اور اصول قیاس سے کام لیکہ کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے :