فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 353 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 353

۳۵۳ زکواۃ اور انکم ٹیکس میں فرق - زکواۃ کے معنے ہیں پاک کرنا بنشو و نما دینا۔خوشحالی سے ہمکنار کرنا۔اس لحاظ سے جو مسلمان خداتعالی کی خوشنودی اور اُس کی رضا کی خاطر نہ کواۃ ادا کرتا ہے وہ اپنے آپ کو اکتناز اور مال جمع کرنے کی حرص سے پاک کرتا ہے۔اُس کے مال میں جو دوسروں کا حق ہے وہ ادا کر کے اپنے مال کو پاکیزہ اور طیب بناتا ہے اللہ تعالی کی برکتوں اور اس کے فضلوں کا وارث بنتا ہے۔غریبوں اور ضرورتمندوں کی ضروریات پوری کر کے امن و آشتی حفظ و امان کے حالات پیدا کرتا ہے۔اس طرح اپنے مال کی حفاظت اس کی تجارت کے فروغ اور صنعت و حرفت کی ترقی کے لئے راہ ہموارہ کرتا ہے اور سارے ملک کی خوشحالی اور اضافہ دولت کی ضمانت دیتا ہے۔ایک مسلمان زکواۃ کو ایک عبادت سمجھ کر خوش دلی سے ادا کرتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے اللہ تعالٰی کے احسانات کی وجہ سے جذبہ تشکر اور اس کے فضلوں کی امید کار فرما ہوتی ہے اس کے برعکس انکم ٹیکس کے ادا کرنے میں یہ محرکات بڑی حد تک مفقود ہوتے ہیں اور اس وجہ سے انسان بعض اوقات اس سے بچنے کے چیلے تلاش کرتا ہے۔نیز اس کی شرح کا تعیین چونکہ بندوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے اس میں انصاف کے عناصر ایک حد تک مفقود ہو سکتے ہیں۔اس طرح دونوں طرف بے اعتمادی اور بے اعتباری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔زکواۃ بہت اور جمع شدہ دولت پر لگتی ہے گویا جمع شدہ سرمایہ پر یہ ایک بہترین قسم کا محصول ہے جس کے نتیجہ مں سرمایہ گردش پر مجبور ہو جاتا ہے اور تقسیم دولت کے رجحان کرد با اور سرمایہ کاری کو اس سے فروغ ملتا ہے۔اس کے برعکس انکم ٹیکس آمدنیوں پر لگایا جاتا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری ایک حد تک رک جاتی ہے۔روپیہ جمع کرنے اور دولت کے انبار لگانے کا جذبہ ترقی پاتا ہے اور روپیہ کی گردش کم ہو جاتی ہے۔بے کاری اور بے روزگاری بڑھ جاتی ہے اور عامۃ الناس کی قوتِ خرید نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔لیکن زکواۃ دینے سے معاشرہ کی عملی قوتیں بیدار ہوتی ہیں جو دولت میں اضافہ اور معاشرہ کی خوش حالی کا موجب بنتی ہیں۔