فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 349 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 349

۳۴۹ زكوة اور انفاق فی سبیل اللہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرنا جہاں ایک بہت بڑی نیکی بھلائی اور ملک کی خوشحالی کی ایک یقینی ضمانت ہے وہاں یہ ایک مالی عبادت بھی ہے۔جو قومیں ذخیرہ اندوزی اور مال جمع کرنے کی عادی ہیں اور قومی ضرورتوں اور رفاہ عامہ کے کاموں میں کھلے دل سے خرچ کرنے سے ہچکچاتی ہیں تباہی اور بربادی ان کے دروازہ پر کھڑی ہوتی ہیں۔فتنہ اور فساد۔بدامنی اور انتشار اس ملک کا نصیبہ بن چکا ہوتا ہے جس میں یہ بخیل قوم بستی ہے۔انسان کے پاس جو مال ہے وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے اور اس کی امانت ہے اگر اللہ تعالی اس امانت میں سے کچھ واپس لینا چاہے اور بندے کو کہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں سے وہ اس کی راہ میں خرچ کرے تو خوشی اور پور سے انشراح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو مانا اور اس کی راہ میں خرچ کرنا انسان کی مین سعادت اور اس کی مزید برکات کے مورد بننے کا یقینی اور قطعی ذریعہ ہے۔الْخَلْقُ عِمَالُ اللهِ ﷺ کے تحت زعیت کے لحاظ سے سب انسان اللہ تعالیٰ کے حضور ایک جیسا حق اور درجہ رکھتے ہیں اور دنیا کے تمام اموال میں وہ سب برابر کے ہیں۔تاہم اپنے اپنے وسائل اور استعداد یافت کے لحاظ سے مقدار ملکیت میں وہ ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ حالات کے اعتبار سے کسی کے پاس مال زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ایک شخص کمانے کے زیادہ بہتر ڈھنگ جانتا ہے اور دوسرا اس راہ میں اناڑی اور بے وسیلہ ہے لیکن اس تفاوت کی وجہ سے کمزور بے وسیلہ اور نادار اپنے : - مخلوق اللہ تعالیٰ کی عیال ہے :