فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 344
۳۴۴ عن شبرمہ کی بجائے یہ الفاظ مروی ہیں ” هَذِهِ عَنْ شِبُرَمَةَ وَحَةٍ عَنْ نَفْسِكَ " کہ یہ حج تو شہرمہ کی طرف سے ہوا پھر اپنی طرف سے بھی حج کرنا۔ان الفاظ سے اس حدیث کا اضطراب واضح ہے اس لئے یہ روایت ان احادیث کا مقابلہ نہیں کر سکتی جن میں ایسی شرط کا کوئی ذکر نہیں۔حج بدل کی حکمت کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مقامات مقدسہ اور شعائر اللہ کی زیارت کے لئے جاسکیں اور بغرباء کو بھی ان برکات سے حصہ پانے کا موقع مل جائے۔ایسی پابندیوں کی متقاضی نہیں ہے۔سوال: - کیا بوڑھی عورت زائد از ساٹھ سال غیر محرم کے ساتھ حج کو جاسکتی ہے ؟ جوا ہے :۔بوڑھی عورت ایسی عورتوں کے ساتھ حج کے لئے جا سکتی ہے جن کے ساتھ ان کے محرم ہوں اگر صرف مرد ہی ہوں اور ساتھ کوئی عورت نہ ہو تو پھر حج کے لئے جانے کی اجازت نہیں کئی جوڑیاں پیش آجاتی ہیں۔مثلاً بیماری۔موت فوت ہے اور ایسی حالت میں عورت ہی بعض انتظامات میں حصہ لے سکتی ہے۔بہر حال دوسری عورتوں کے ساتھ جانے کی اجازت ہے صرف مردوں کے ساتھ نہیں۔سوال : ایک شخص حج کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے براستہ میں فوت ہو جاتا ہے کیا اس کی طرف سے کسی اور کو حج کرنا چاہیے ؟ جواب : حج کی صحت کا دارو مدار نیت اور عملی کوشش پر ہے جب کسی نے ارادہ کے ساتھ عملی کوشش بھی کی اور راستہ میں وفات کی وجہ سے ظاہری رنگ میں حج کی تکمیل نہ کر سکا تو خداتعالی کے حضور اس کا حج ہو گیا اور جو ثواب مقدر تھا وہ اس کو مل گیا۔وفات اس کے اپنے اختیار میں نہ تھی بلکہ خدا تعالیٰ نے یہ تقدیر چلائی۔اس لئے اس بناء پر حج کے ثواب سے محرومی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے :- مَنْ يَخْرُجُ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِه الموتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ - لَه لا یعنی جو شخص اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ کے حضور جانے کے لئے نکلا اور پھر ا منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی موت نے اس کو آکیا تو اللہ تعالٰی اُسے اُس کی نیت اور عمل کا ضرور اجر دے گا۔اور اللہ تعالی کے ہاں اُس کا اجر محفوظ ہو گیا۔: نساء: 10 :