فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 342
۳۴۲ حج بدل محبت میں کپڑے کی سیکی حاجت نہیں رہتی۔عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے۔کپڑوں کو سنوار کر رکھنا یہ عشق میں نہیں رہتا۔۔۔۔۔عرض یہ نمونہ جو انتہا ئے محبت کے لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔سرمنڈایا جاتا ہے۔دوڑتے ہیں محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے جو خُدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے۔پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔اسلام نے پورے طور پر ان حقوق کی تکمیل کی تعلیم دی ہے۔نادان وہ جو اپنی نابینائی سے اعتراض کرتا ہے" سے شخص ایک مرحوم احمدی کے ورثاء نے حضرت کی خدمت میں لکھا کہ مرحوم کا ارادہ پختہ حج پر جانے کا تھا مگر موت نے جمہلت نہ دی۔کیا جائز ہے کہ اب اس کی طرف سے کوئی آدمی خرچ دے کہ بھیج دیا جاوے؟ فرمایا۔" جائز ہے۔اس سے متوفی کو ثواب حج کا حاصل ہو جائے گا " ہے سوال: کیا حج بدل کے لئے ضروری ہے کہ حج پر وہی شخص جائے جن کی پہلے خود حج کیا ہوا ہو ؟ جواب: - حج بدل کا جواز مختلف احادیث سے ثابت ہے ان میں سے جو زیادہ صحیح روایات ہیں ان میں اس شرط کا کوئی ذکر نہیں کہ جو شخص حج بدل کے لئے جائے پہلے اس نے خود اپنا حج کیا ہوا ہو۔یہ حدیثیں بخاری مسلم اور صحاح ستہ کی باقی کتابوں میں مروی ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ ہے :- عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةٌ مِنْ خَتْعَمَ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ ان إلى أدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَمِ شَيْئًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ ان يَسْتَوى عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِ قَالَ فَحَجَى عَنْهُ - سه یعنی میرے باپ پر حج فرض تھا لیکن اب وہ اتنا بوڑھا ہو چکا ہے کہ اونٹ پر :- ملفوظات جلده م٣ ، البدر ١٩٠٣ : ه - ملفوظات جلد سوئم من : : - بخاری ومسلم مسلم کتاب الحج باب الحج عن العاجز۔۔۔۔۔۔الخ صه :