فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 335 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 335

۳۳۵ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ - له پھر جو شخص جلدی کر سے (اور) دو دنوں میں رہی واپس چلا جائے ، تو اُسے کوئی گناہ نہیں۔کی اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بارہویں تاریخ کی رمی کے بعد مگر واپس آجائے بہر حال بارہویں یا تیرہویں کو مکہ آکر واپسی کا طواف کرے۔یہ طواف اُن کے لئے ہے جو کہ مکہ کے باشندے نہیں ہیں۔اور گھر واپس آنا چاہتے ہیں۔اس طواف کو طواف الصدر یا طواف الوداع " کہتے ہیں۔الوداعی طواف سے فارغ ہو کر حج کرنے والا زمزم کا پانی پیئے۔دہلیز کعبہ کو چومے۔ملتزم پر اپنا سینہ رکھ کر رو رو کر دعائیں کرے۔استمار کعبہ یعنی کھنے کے غلاف کو پکڑ کر اپنے مولی کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اس سے بخشش کی التجا کر ہے۔پھر پچھلے پاؤں ہٹتے ہوئے اپنی آخری نگاہ شوق کعبہ پرڈالے اور واپس آجائے۔محمرة بیت اللہ کے طواف اور سعی بین الصفا والمروہ کا نام عمرہ ہے اس کے لئے مکہ سے باہر کے مقام سے احرام باندھنا چاہیئے۔اس لئے مگر میں رہنے والے لوگ عمرہ کے احرام کے لئے تنعیم جاتے ہیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ واپس آتے ہیں تاکہ اس عبادت کے لئے ایک گونه سفر کی شرط پر عمل ہو جائے۔عمرہ کے لئے کوئی خاص وقت مقررہ نہیں۔سال کے کسی حصہ میں ادا کیا جا سکتا ہے۔البتہ نویں ذو الحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ تک ان چار دنوں میں عمرہ کا احرام باندھتا درست نہیں۔کیونکہ یہ حج ادا کر نے کے دن ہیں۔عمرہ کے احرام کھو لنے کا بھی وہی طریق ہے جو حج کے احرام کھولنے کا ہے یعنی عمرہ کرنے کے بعد اپنے سر کے بال کٹواد سے یا منڈواد سے اور عورت ایک دو لیٹیں کاٹ کر احرام کھولے۔حج کی اقسام حج کی تین قسمیں ہیں :۔حج مفرد - حج تمتع - حج قران - - حج مفرد کا طریق وہی ہے جو او پر بھج کرنے کا طریق کے عنوان کے تحت بیان ہوا ہے۔-۲- حج تمتع - اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے :- فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَرَ مِنَ الْهَدْيِ ، فَمَنْ : بقره : ۲۰۲