فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 334
۳۳۴ کی نماز سے فارغ ہو کر حج کرنے والا تلبیہ و بکبیر - ذکر الہی۔استغفار اور دعا میں مشغول رہے۔جب سورج غروب ہو جائے تو شرفات سے چل کر مزدلفہ میں آجائے۔وادی کو چھوڑ کر مزدلفہ کا باقی سارا میدان مؤقف ہے۔یہاں عشاء کے وقت میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے پڑھے۔صبح کی نماز بہت سویر سے پڑھی جائے۔اس کے بعد شعر الحرام کے قریب جا کر ذکر الہی کرے۔تکبیر اور تلبیہ پر زورد سے جب کچھ روشنی ہو جائے تو مزدلفہ سے چل کر واپس منیٰ میں آجائے۔راستہ سے ستر کنکریاں اٹھا ہے۔جب منی پہنچے تو سب سے پہلے جمرة العقبة کو رمی کرے۔یعنی عقبہ نامی ٹیلے کو اللہ اکبر کہتے ہوئے سات کنکریاں مار سے پہلی کنگری کے ساتھ بار بار تلبیہ کہنے کا وجوب ختم ہو جائے گا۔اس کے بعد اگر اس کا ارادہ قربانی دینے کا ہے تو تاریکی جا کہ قربانی ذبح کرے لیے ورنہ اپنے بال کٹوا کر یا منڈوا کر احرام کھول دے۔بال کٹوانے یا ا منڈوانے کو احرام کھولنا یا حلال ہونا کہتے ہیں۔عورت احرام کھولنے کے لئے اپنے سر کی ایک دو مینڈھیاں قینچی سے کاٹ دے۔اُس کے لئے سارے بال کٹوانا یا منڈوانا جائز نہیں۔یہ دسویں ذوالحجہ کا دن ہے۔حجاج کے لئے اس دن عید کی نمازہ نہیں ہے۔بہر حال احرام کھولنے کے بعد دسویں ذی الحجہ کو حج کرنے والا مینی سے مکہ آکر بیت اللہ کا طواف کرے۔یہ طواف بھی حج کا بنیادی رکن ہے۔اس کو طواف زیارت اور طواف افاضہ کہتے ہیں۔طواف زیارت کے بعد حج کر نیو الے کے لئے وہ سب اشیاء جائز ہو جاتی ہیں جو احرام کی وجہ سے اس کے لئے منوع تھیں۔طواف زیارت سے فارغ ہو کر وہ پھر واپس مٹی میں چلا جائے اور تین دن یہیں مقیم رہے۔منی میں تین جمبرے ہیں۔جمرۃ الاولی - جمهرة الوسطی - جمرۃ العقبہ۔یہ جمھرے جو پہلے چھوٹی چھوٹی چھا نہیں تھیں اب مبر جیوں کی شکل میں ہیں۔کیسے گیارہویں ذوالحجہ کو حج کرنے والا زوال کے بعد تینوں جمروں کو رمی کر ہے۔سب اس جمہرے کو سات کنکر مارے جو مسجد الخیف کے پاس ہے اور جسے جمرۃ الاولی کہتے ہیں۔اس کے بعد اس جمہرہ کو سات کنکر مارے جو اس کے قریب ہے اور جسے جمہرۃ الوسطیٰ کہتے ہیں۔آخر میں تیسرے جمرہ یعنی جمرۃ العقبہ کو سات کنکر مار ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ دسویں کو مزدلفہ سے واپسی کے بعد بھی اس جمرہ کو سات کنکر مارے گئے تھے۔بارہویں ذو الحجہ کو بھی گیارہویں کی طرح تینوں جمروں کو رمی کرے۔اس کے بعد اختیار ہے اگر کوئی چاہے تو تیرھویں تاریخ کو رمی کرنے کے لئے منی میں قیام کرے۔اور چاہے تو :- ه ابن ماجہ کتاب الحج باب الموقوف ہے :- بقره : ۱۹۷ ۳: مائده : ۱۹۸ : :