فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 28
اس میں ایک قوت کشش ہو اور واقعی طور پر دعا کرنے کے بعد آسمان سے ایک نور انرز سے جو ہماری گھبراہٹ کو دور کرے اور ہمیں انشراح بجتے اور سکینت اور اطمینان عطا کہ سے بیچی دکھا کے بعد خُدائے حکیم دو طور پر نصرت اور امداد کو نازل کرتا ہے۔ایک یہ کہ اس بلا کو دور کر دیتا ہے جسے نیچے دب کر ہم مرنے کو تیار ہیں۔دوسرے یہ کہ بلا کی برداشت کیلئے ہمیں نہ صرف فوق العادت قوت عنایت کرتا ہے بلکہ اس میں نصرت اور انشراح بخشتا ہے " نماز میں بے ذوقی کا علاج بھی دعا ہے اس سے آخر کا ر ذوق پیدا ہو جائیگا دعائیں دو قسم کی ہوتی ہیں مقررہ اور مرخصہ مقررہ دعاؤں سے مراد اعلی درجہ کی اہم دعائیں ہیں جن کو ممکن تھا ہم دعا کرتے وقت چھوڑ دیتے۔یا وہ ہمارے ذہن میں نہ آئیں سو وہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول نے قرآن و حدیث میں خود مقرر کر دیں مثلاً الحمد للہ سے ضالین تک جو دنیا ہے وہ ہمارے ذہن میں نہ آسکتی تھی یا سمع اللہ لمن حمد ربنا لک الحمد و غیره کلمات ہیں یہ سب ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتے تھے سو ان کو خُدا اور اس کے رسول نے خود مقرر کر دیا۔مرخصہ وہ دعائیں ہیں جو ہم اپنی ضرورتوں کے لئے اپنی زبان میں کر سکتے ہیں مثلاً اگر ہمارا مالی نقصان ہو جائے لازمت میں خرابی واقعہ ہو جائے تجارت میں ترقی نہ ہو یا کوئی اور ضرورت درپیش ہو تو اس کے لئے اپنی زبان میں اور اپنی ضروریات کے مطابق دعائیں مانگنے کی اجازت ہے۔نماز میں ذکر ودھا کی ہدایت فرما کہ اللہ تعالٰی نے صفا الہیہ پر غور کر نیکا راستہ کھول دیا ہے مسلمان اپنی نمازہ میں روزانہ قرآن کریم پڑھتا ہے دعائیں کرتا ہے، رکوع و سجود میں دعائیں کرتا ہے سورۃ فاتحہ کے کلمات طیبات رب العالمين الرحمن الرحیم۔مالک یوم الدین - ایاک نعبد و ایاک نستعین اس کے سامنے آتے رہتے ہیں اور وہ اُن پر غور کرتا ہے۔غرض اسلام نے ہر سمان کو حکم دیا کہ وہ یہ دعا خود پڑھے اور غور و فکر سے پڑھے۔پس اس طرح سے اس نے ہر ایک کے لئے صفات الہیہ پر خور دن کہ کا راستہ کھول دیا ہے۔قبولیت دعا کی عظمت پر ایک فلیے شہادت حضرت مسیح موعود علیہ اسلام فرما تے ہیں۔" وہ جو عرب کے بیابان ملک میں ایک عجیب ماجرا گذرا کہ لاکھوں مرد سے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور رشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر اپنی معارف جاری ہوگئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اسے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا۔وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہیں تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمتی ہے کسی سے له: بركات الدعا ملخصا - :