فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 333
۳۳ سال جب مکہ میں داخل ہو تو سامان وغیرہ رکھ کر اور وضو یا غسل کر کے سیدھا مسجد حرام میں جائے۔تکبیر اور تلبیہ کہتے ہوئے حجر اسود کے سامنے کھڑا ہو جائے اور جس طرح سجدہ میں ہاتھ رکھتے ہیں۔اس طرح کعبہ کی دیوار پہ ہاتھ رکھتے ہوئے حجر اسود کو چومے اور اگر قوم نہ سکے تو اپنے ہاتھ سے اُسے چھوٹے۔اور اگر چھو بھی نہ سکے تو چھڑی یا ہاتھ سے اشارہ کر کے اُسے چوم ہے۔دھینگا مشتی کر کے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کہ ہے۔حجر اسود کو اس طرح بوسہ دینے کو استلام کہتے ہیں۔استلام کے بعد طواف شروع کر سے یعنی حجر اسود کی دائیں جانب جدھر دروازہ ہے اس کی طرف چلتے ہوئے بیت اللہ کے سات چکر لگائے۔حیم بھی کعبہ کا حصہ ہے اس لئے چکر لگاتے ہوئے اس کے باہر سے گزر ہے۔پہلے تین چکریں میں رمل یعنی کسی قدر فخریہ انداز میں کندھے مکاتے ہوئے تیز تیز قدم چلنا مسنون ہی ہے۔ہر چکر میں جب بھی حجر اسود کے سامنے پہنچے تو اس کا استلام کرے۔رکن یمانی کا استلام بھی مستحسن ہے۔ساتواں چکر حجر اسود کے سامنے آکر ختم کرہے۔پھر مقام ابراہیم کے پاس آکر طواف کی دو رکعت پڑھے۔مکہ مکرمہ میں پہنچنے کے بعد بیت اللہ کا یہ پہلا طواف ہے جسے طواف القدوم کہتے ہیں بہر حال اس طواف کے بعد صفا پر آئے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے اور ہا تھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگے۔درود شریف پڑھے تکبیر اور تلبیہ کہے پھر یہاں سے مروہ کی طرف جائے۔مروہ پر بھی اسی طرح دعائیں مانگے۔یہ اس کا ایک چکر ہوگا۔اس کے بعد صفا کی طرف جائے یہ اس کا دوسرا چکر ہوگا۔اس طرح صفا اور مروہ کے سات چکر لگائے۔آخری چکر مردہ پر ختم ہوگا۔ان سات چکروں کو " سعی " کہتے ہیں کیے سعی بین الصفا والمروہ کے بعد وہ فارغ ہے۔قیام گاہ پر آکر آرام کر سے بازار میں گھومے پھر سے کوئی پابندی نہیں۔اس کے بعد آٹھویں ذو الحجہ کو منی میں جائے۔وہیں ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھے۔نویں کی فجر پڑھ کر مینی سے عرفات کے لئے روانہ ہو۔ظہر سے لے کہ مغرب تک میدان عرفات میں وقوف کر سے ظہر اور عصر کی نمازیں یہیں جمع کر کے پڑھے۔نویں ذوالحج کو میدان عرفات میں وقوف حج کا اہم ترین حصہ ہے۔اگر کسی وجہ سے یہ رہ جائے تو اس سال حج نہیں ہوگا۔دادی عرنہ جو عرفات کے پہلو میں ہے اُسے چھوڑ کر عرفہ کا سارا میدان مؤقف ہے ظہر اور عصر ه تندی کتاب الحج باب الريل من الحجرالى الحجر مثنا ، كشف الخمر ص: ۲ - سورة البقره: ۲۱۵۹ : ابن ماجہ کتاب الحج باب الموقوف بعرفات ص :