فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 332 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 332

۳۳۲ میں حاضر ہوں اسے میرے رب تیرے حضور میں حاضر ہوں۔تیرا کوئی شریک نہیں۔میں حاضر ہوں۔حمد و ثناء کا تو ہی مالک ہے۔تمام ملک تیرا ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں۔یہ عربی الفاظ تلبیہ کہلاتے ہیں۔تلبیہ احترام کا ضروری حصہ ہے۔اگر یہ الفاظ حج کے ارادہ کے ساتھ نہ کہے جائیں تو احرام مکمل نہیں ہو گا۔گویا مج شروع کر نے کے لئے تلبیہ کی بالکل دہی حیثیت ہے جو نماز شروع کرنے کے لئے تکبیر تحریمہ یعنی اللہ اکبر کہنے کی ہے۔قطبیہ کے بعد انسان محرم ہو جاتا ہے۔یعنی حج کے مناسک اور احکام بجالانے کے قابل ہو جاتا ہے محرم کو بہت سی ایسی باتوں سے بچنا پڑتا ہے جو عام حالات میں اس کے لئے جائز ہیں۔مثلاً خشکی کا شکار کرنا۔یا کسی سے کروانا - خوشبو پاتیل لگانا۔کنگھی کرنا۔بال کٹوانا۔ناخن کاٹنا۔مرد کے لئے قمیض یا سلا ہوا کپڑا پہننا سر اور چہرہ ڈھانکنا۔پگڑی باندھنا یا ٹوپی پہننا۔موزے یا فل بوٹ استعمال کرنا۔بیوی سے مباشرت کرنا یا اُس کے مقدمات کا ارتکاب کرنا جیسے بوسہ لینا وغیرہ۔غرض ایسے تمام امور سے اجتناب لازمی ہے۔جو آسائش اور آبرام کی زندگی کا لازمہ ہیں۔احرام کی حالت میں فسق و فجور اور جنگ و جدال بہت مذموم حرکات ہیں۔عام حالات میں بھی ایک مسلمان سے ایسے افعال شنیعہ کی اُمید نہیں کی جاسکتی چہ جائیکہ خُدا کے گھر کی زیارت کی نیت سے جانے والا اس قسم کی حرکات کا مرتکب ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- ذَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَتَ وَلَا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ - پس جو شخص ان میں حج کا ارادہ پختہ کر لے را سے یاد ہے) کہ حج کے ایام میں نہ تو کوئی شہروت کی بات نہ کوئی نا فرمانی اور نہ کسی قسم کا جھگڑا کرنا جائز ہوگا۔احرام کے بعد بکثرت تلبیہ کہا جائے۔چلتے پھرتے۔اُٹھتے بیٹھتے۔بلند جگہ پر چڑھتے ہوئے اور نیچے اترتے ہوئے بالالتزام تلبیہ کہے۔تکبیر - ذکر الہی۔استغفار اور درود شریف پر زور د ہے۔جب مکہ کے قریب پہنچے اور کعبتہ اللہ نظر آئے تو تلبیہ اور تکبیر کہتے ہوئے نہایت درد اور توجہ کے ساتھ اپنے نیک مقاصد کے لئے دعا مانگے۔قبولیت دعا کا یہ خاص وقت ہے لیے ه : سورة البقره : ۱۹۸ : نیل الاوطار باب رفع اليدين اداء في البيت ٣٤٠٢٥