فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 331 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 331

۳۳۱ ارکان حج حج کے تین بنیادی رکن ہیں :- وز) احترام یعنی نیست باندھنا۔(ii) وقوف عرفہ - یعنی نوذو الحجہ کو عرفات کے میدان میں ٹھہرنا۔(1) طواف زیارت جیسے طواف افاضہ بھی کہتے ہیں یعنی وہ طواف جو وقوف عرفہ کے بعد دس ذو الحجہ یا اس کے بعد کی تاریخوں میں کیا جاتا ہے۔نور والحجہ کو اگر کوئی شخص عرفات کے میدان میں خواہ تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی نہ پہنچ سکے تو اس کا حج نہیں ہو گا۔پھر اگلے سال نئے احرام کے ساتھ اُسے دوبارہ حج کرنا ہوگا۔حج کرنے کا طریق جب انسان مالدار تندرست اور سفر کے قابل ہو اور راستہ پر امن ہو تو اس پر حج فرض ہو جاتا ہے۔جب وہ حج کے ارادہ سے جانے لگے تو تمام رشتہ داروں اور دوستوں سے راضی خوشی رخصت ہو۔اور واپسی تک، اپنے بال بچوں کے لئے ضروریات زندگی کا بندوبست کر جائے۔احرام جب میقات مثلاً علم کے پاس پہنچے تو وضوء کرے یا نہائے۔خوشبو لگائے۔دو صاف بے کلی چادریں پہنے۔ایک بصورت تہہ بند باندھے اور دوسری بصورت چادر اوڑھے۔سر ننگا رکھے۔مرد کے لئے حکم ہے۔عورت اُسی لباس میں جو اس نے پہن رکھا ہے حج کر سکتی ہے۔البتہ عام حالات میں احرام کے بعد اپنا منہ نگا ر کھے اس پر نقاب نہ ڈالے۔سوائے اس کے کہ کسی نامحرم کا آمنا سامنا ہوا اور اس سے پردہ کرنا ضروری ہو جائے۔اس کے بعد مرد ہو یا عورت وہ دو رکعت نفل پڑھے اور پھر حج کی نیت کرتے ہوئے مندرجہ ذیل الفاظ کہے:- لبيك اللهُمَّ لَبَّيْكَ - لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ والنعمة لك والمُنكَ لَكَ لا شَرِيكَ لكَ له : حج کی نیت کیلئے گو منہ سے کچھ کہنا ضروری نہیں لیکن اگر کوئی زبان سے بھی نیت کے الفاظ ادا کرے تو کر سکتا ہے عربی کے