فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 330 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 330

کاٹنا منع ہے۔البتہ موذی جانور مثلاً خونخوار درندہ۔سانپ بچھو فصلوں کو نقصان پہنچانے والا توا - چیل۔چوہا اور باؤلے کتے کو مار سکتے ہیں۔اذخر نامی گھاس اور خود کاشتہ فصل کاٹ سکتے ہیں۔اوقات حج حج کے لئے خاص مہینے مقرر ہیں جنہیں " اشهر الحج " یعنی حج کے مہینے کہا جاتا ہے اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے :- الحَم اشْهُرُ مَّعْلُومَاتٌ : فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَتَ وَلا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ في الحج طله حج کے مہینے دست کئے ، جانے بوجھے ہوئے مہینے ہیں۔پس جو شخص ان میں بچے کا ارادہ پختہ کر لے را سے یادر ہے کہ حج کے ایام میں نہ تو کوئی شہوت کی بات نہ کوئی نا فرمانی اور نہ کسی قسم کا جھگڑا کرنا جائزہ ہوگا۔یه شوال - ذو القعد اور ذوالحجہ تین ماہ ہیں۔ان کو اشعر الحج اس لئے کہتے ہیں کہ ان میں حج کی تیاری۔اخلاق کی درستگی اور حج کے دوسرے احکام مثلاً احترام وغیرہ عملی ارکان کا آغا نہ ہوتا ہے حج کے آخری مناسک ذوالحجہ کی ۱۳ تاریخ تک ادا کرنے ہوتے ہیں۔البتہ طواف افاضہ جسے طواف زیادہ بھی کہتے ہیں۔دس ماہ ذوالحجہ سے ہے کہ آخر ماہ تک ادا کیا جا سکتا ہے۔حج فرض ہونے کی شرائط مسلمان ہو۔عاقل بالغ ہو۔اتنا مالدار ہو کہ گھر کے خرچ اخراجات کے علاوہ مناسب زاد راہ پاس ہو۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- وَتَزَودُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى : یعنی سفر کے مصارف کے لئے وافر رقم موجود ہو اور تندرست اور سفر کے قابل ہو۔راستہ پر امن ہو۔مگر جانے میں کوئی روک نہ ہو۔:- البقره : ۱۹۸ :- البقره : ١٩٨