فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 329
۳۲۹ حج کے ارادہ سے مگر جانے والا گھر سے بھی احرام باندھ سکتا ہے۔یہاں تک کہ مکہ کے رہنے والے مکہ کے اندر ہی احرام باندھ سکتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی میقات کے پاس جاکر وہاں سے احرام باندھیں۔میقات کا مفہوم صرف یہ ہے کہ یہاں سے آگے مکہ کی طرف احرام باندھے بغیر جانا منوع اور طریق حج کے خلاف ہے۔مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔مگر میں رہنے والوں کے لئے یہ میقات ہے۔یعنی اگر کوئی شخص مگر میں رہ رہا ہو اور عمرہ کرنے کو اس کا دل چاہے تو مکہ سے باہر تنعیم آجائے اور پھر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کہ مکہ میں داخل ہوتا کہ عمرہ کرنے کے لئے بھی ایک گونہ سفر کی شرط پوری ہو جائے۔حدیث میں ہے : اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ انْ يُعَمِّرَ عَائِشَةَ مِنَ التَّنْعِيمِ حج اور عمرہ کی عبادت کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر مسافرت اختیار کرنا اور اپنے شہر سے باہر نکلنا بھی ہے۔حرم مگر اور اس کے ارد گرد کا علاقہ حرم کہلاتا ہے۔حرم کی حدود مختلف اطراف سے مختلف ہیں۔ایک طرف سے مکہ سے قریبا تین میل دوسری طرف سے سات میں تیسری طرف سے نومیل بجانب جدہ حرم کی حدیں ہیں۔حدود حرم کے اندر شکار کھیلنا کیسی جنگلی جانور کو پریشان کرنا - خود رو ہری گھاس یا خود رو درخت ١١٢ : هُوَ مَكَانَ يُسَمَّى بِمَسَاجِدِ عَائشه : ه: - ترمذی کتاب الحج باب العمرة من التنغيم ص : سے مکر کی شمالی جانب تنعیم تک کچھ کلو میٹر مکہ کی جنوبی جانب آضاء تک ۱۲ کلومیٹر، مکہ کی مشرقی جانب جعرانہ تک ۱۹ : - کلومیٹریکر کی مغربی جانب شمیسی تک ۱۵ کلومیٹر مکہ کی شمال شرقی جانب دادی نخلہ تک ہم کلومیٹر موجودہ حد بندی بیان کی جاتی ہے۔