فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 324
۳۲۴ حجر اسود خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونہ کے پاس ایک سیاہ رنگ کا پتھر نصب ہے اسے " حجر اسود کہتے ہیں۔اس پتھر کو بہت متبرک سمجھا جاتا ہے۔یہ پتھر غالباً شہاب ثاقب کا ایک بہت بڑا ٹکڑا تھا جو مکہ کے قریب ابو قبیس نامی پہاڑ پر گیا۔تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم اس نمایاں پتھر کو وہاں سے اُٹھا لائے اور کونے کے پتھر کی تمثیل اور ایک عظیم یادگار کے طور پرا سے اس دیوار میں نصب کر دیا۔اب جو بھی کعبہ کا طواف کرتا ہے اُسے حکم ہے کہ سب سے پہلے وہ اس یاد گار سپتھر کو بوسہ دے۔یہ پتھر اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے اور اس کے قادر مطلق ہونے اور صادق الوعد ہونے کا ایک خاص نشان ہے اور جس سے پیار ہو اُس سے تعلق رکھنے والی خاص اشیاء بھی پیاری لگتی ہیں۔بھی فلسفہ حجر اسود کو چوسنے کا ہے۔ورنہ یہ پتھر اپنی ذات میں نہ کسی کو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ کوئی فائدہ اور نہ مسلمان اسے کسی رنگ میں نافع یا ضار سمجھتے ہیں۔۔حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کی شمالی دیوالہ کاحصہ ملت کم کہلاتا ہے۔حج کرنے والے واپسی کے وقت کعبہ کے اس حصہ سے اپنے سینہ کو لگاتے ہیں۔جیسے معانقہ کیا جاتا ہے بیت اللہ سے الوداع اور اس کی آخری زیارت کا یہ ایک والہانہ اندازہ ہے۔ركون بمانی خانہ کعبہ کا جنوب مغربی کو نہ چونکہ یمین کی سمت ہے اس لئے اسے رکن یمانی" کہتے ہیں۔طواف کے وقت اس کو نہ کو ہاتھ سے چھونا اور اُسے بوسہ دینا منتخب مطاف خانہ کعبہ کے اردگرد سنگ مرمر کا بنا ہوا ایک دائرہ ہے اس جگہ بیت اللہ کے ارد گرد طوات کرتے ہیں۔طواف ایک عبادت ہے جو بیت اللہ کے اردگرد سات چکر لگا کر ادا کی جاتی ہے