فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 27 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 27

۲۷ دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتوی دیا ہے کہ دہ دعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ کریں کیونکہ دعا تدبیر کے لئے بطور محرک اور جاذب کے ہے اور تدبیر دکھا کے لئے بطور ایک نتیجہ ضرور یہ کے ہے پس دُعا سے اصل مطلب تدبیر کا پانا۔اطمینان قہستی اور حقیقی خوشحالی کا حاصل کرنا ہے اور جو شخص روح کی سچائی ہے دُعا کرتا ہے ممکن نہیں کہ حقیقی طور پر وہ نامراد رہ سکے۔البتہ یہ اللہتعالیٰ جانتا ہے کہ ایک دعا کر نے والے شخص کی حقیقی خوشحالی کس امر میں ہے۔یہ چیز خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے جس پیرا یہ میں چاہے وہ عنایت فرمائے۔اگر ہم اس خطا کار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا آگ کا ٹکڑا مانگتا ہے اپنی دعا اور طلب میں غلطی پر ہوں تو خدا تعالیٰ وہ چیز جو ہمارے لئے بہتر ہو خطا کرتا ہے اور اگر ہم اپنے مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں تو وہی مقصد یہ آتا ہے اور بایں ہمہ دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی وہ ترقی دیتا ہے کیونکہ دعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتداء سے اور جب سے انسان پیدا ہوا ہے برابر چلا آتا ہے۔جب خدا تعالی کا ارادہ کسی بات کے کرنے کا ہوتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اس کا کوئی مخلص بنده اضطراب اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے کرتا ہے تب اس مرد فانی کی دعائیں فیض الہی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جاتا ہے۔ایسی دعا کہنے والوں کے لئے آسمان زمین کے نزدیک آجاتا ہے اور دعا قبول ہو کہ مشکل کشائی کے لئے نئے اسباب پیدا کئے جاتے ہیں اور ان کا علم پیش انہ وقت دیا جاتا ہے اور کم از کم یہ کہ مہینے آہنی کی طرح قبولیت دعا کا یقین غیب سے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔سچ یہی ہے کہ اگر دُعا نہ ہوتی تو کوئی انسان خدا شناسی کے بارہ میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔حقیقت یہی ہے کہ کوئی انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دُعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اس سچے ذوالجلال خدا کو پاہی نہیں سکتا۔ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یاد رکھے کہ اس زندگی میں روحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دُعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خداتعالی کی ہستی پر یقین بخشتا ہے اور تمام شکوک و شبہات دور کر دیتا ہے۔ہر ایک دعا اگر چہ وہ ہماری دنیوی مشکل کشائی کے لئے ہو مگر وہ ہماری ایمانی حالت اور عرفانی تربیت پر گزر کر آتی ہے۔یعنی اول ہمیں ایمان اور عرفان میں ترقی بخشتی ہے اور ایک پاک سکینت اور انشراح مداوم اطمینان عطا کرتی ہے پھر ہماری دنیوی مکروہات پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور جس پہلو سے مناسب ہے اس پہلو سے ہمارے غم کو دور کر دیتی ہے۔پس دعا اس حالت میں دعا کہلا سکتی ہے کہ جب در حقیقت