فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 323
کے لئے تیار ہو گئے اور اُسے پیشانی کے بل لٹا دیا۔مگر خواب کا مطلب در حقیقت کچھ اور تھا اور اس کی تعبیر کسی اور طرح ظاہر ہونے والی تھی۔چنانچہ اس اثناء میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کا الہام کیا کہ اب ظاہر میں بچہ کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ قرب الہی کے لئے انسانی قربانی کا یہ انداز ہمیشہ کے لئے منسوخ کیا جاتا ہے۔آئندہ یہ قربانی اس رنگ میں قبول ہوگی کہ خُدا کی رضا اور اس کے دین کی خاطر جان و مال عزت اور وقت کی قربانی دی جائے تاہم اس اقرار کے ظاہری نشان کے لئے بطور یادگارہ آئندہ ہر سال ذو الحجہ کی دسویں تاریخ کو عمدہ اور قیمتی جانوں کی قربانی دی جائے۔بہر حال ان قربانیوں اور دعاؤں کے نتیجہ میں حضرت ابراہیم کو بشارت ملی کہ اس بچہ کی نسل کو میں بڑھاؤں گا اور لوگ اس کی نسل کے ذریعہ برکت پائیں گے چنانچہ الہی اشارہ اور حالات پیش آمدہ کے تحت حضرت ابراہیمؑ اپنی بیوی ہاجرہ اور پیو ٹھے بیٹے استھیلی کو اس جگہ چھوڑ آئے جہاں آجکل مکہ آباد ہے۔قدیم زمانہ میں اس کا نام بلکہ بھی تھا۔حضرت اسمعیل اور ان کی والدہ کو یہاں آباد کرنے اور اس جگہ کو رونق بخشنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ ہمیشہ کی زندگی کے مرکز بیت تحقیق ہے کو جس کی بنیادیں ریت کی تہوں میں اپنی صدیوں کی تاریخ چھپائے ہوئے تھیں پھر سے تعمیر کیا جائے۔غرض یہاں آباد ہونے کے کچھ عرصہ بعد ارشاد الہی کے تحت حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے میں کی مدد سے اس گھر کو تعمیر کیا جو قبلہ عالم ہے۔کھیہ اور بیت اللہ کے نام سے مشہور و معروف ہے۔یہ گھر مسجد حرام کے درمیان میں بنا ہوا ہے۔اس پر سیاہ ریشمی غلاف چڑھا رہتا ہے۔کعبیہ کی موجودہ شکل مستطیل ہے۔شمالاً جنوباً نہ ہم فٹ لمبا اور شرقاً غرباً ۳۳ فٹ چوڑا ہے اونچائی کا ہم فٹ ہے۔خانہ کعبہ کی شمالی دیوار کے ساتھ بشکل کمان کچھ خالی جگہ ہے۔اس کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی دیوار ہے لیکن اُوپر چھت نہیں۔کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے جب قریش نے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تو چھت کے لئے وافر کڑی نہ مل سکنے کی وجہ سے یہ حصہ بغیر چھت کے چھوڑ دیا گیا۔طواف میں اس حصہ کو شامل کیا جاتا ہے لیکن مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہوئے اگر صرف اس حصہ کی طرف منہ کیا جائے تو نمازہ درست نہیں ہوگی۔خانہ کعبہ کا طلائی پر نالہ میزاب رحمت" عظیم میں ہی گرتا ہے۔ل :- سورة الحج : ٣٠