فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 322
نہ بیٹی۔آخر سارہ نے ابراہیم سے کہا کہ ہمارے ہاں اولاد نہیں۔میں چاہتی ہوں کہ اس لڑکی کو جو کہ مصر کے بادشاہ نے ہماری خدمت کے لئے دی ہے تو اپنی بیوی بنا شاید اللہ تعالٰی اس سے ہمیں اولاد عطاء فرمائے۔یہ نیک اور پاک باز عورت در حقیقت شاہ مصر کے خاندان کی ایک لڑکی تھی اور اس نے ابراہیمؑ کی معجزانہ طاقت کو دیکھ کہ ان کی دعاؤں کے حصول کی غرض سے اُن کی خدمت کے لئے اُسے ساتھ کہ دیا تھا۔اس لڑکی کا نام ہاجرہ نہ تھا۔ابراہیم نے اپنی بیوی کی اس بات کو قبول کر کے ہاجرہ کو اپنے نکاح میں لے لیا۔اور خدا تعالٰی نے بڑھاپے میں ابرام کو ایک لڑکا دیا جس کا نام اُس نے اسمعیل رکھا۔یعنی خداوند خدا نے ہماری دعاشن کی۔اس بیٹے کی پیدائش پر خدا تعالیٰ نے ابرام کا نام ابراہام کر دیا۔کیونکہ اس کی نعمتوں کی فراوانی اور آسمانی برکت کا وعدہ کیا گیا تھا۔اسی ابراہام کا تلفظ عربی زبان میں ابراہیم ہے۔اسی وجہ سے عبرانی لوگ اُسے ابراہام اور عرب ابراہیم کہتے ہیں۔سارہ جنسی خوشی سے ابراہیم کو ہا جو ان کے میدی بنانے کا مشورہ دیا تھا اس کے بچہ جنے پر کچھ دیگر ہوئی اور اس نے اس طبعی کمزوری کی وجہ سے ہاجرہ ہے اور اس کے بچہ کو تکلیفیں دینی شروع کیں۔ابراہیم کے دل پر یہ صورتحال ناگوالہ گزری۔لیکن بیوی کی سالہا سال کی خدمت اور اخلاص کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ کچھ نہ کہ سکے بلکہ کہا تو ہی کہ ہاجرہ یہ تمہاری لونڈی ہے تم جس طرح چاہو اس سے سلوک کہ وہ وہ ابراہیم کو کیا معلوم که یہ سب سامان کسی اور ہی غرض کے لئے ہو رہے تھے اور یہ سب واقعات ابراہیم کی ایک اور ہجرت کے سلسلہ کی کڑیاں تھیں۔انہی ایام میں جب اٹھکیل کچھ کچھدار ہو گئے اور اپنے والد کے ساتھ دوڑ دوڑ کر چلنے لگے تھے کہ ابراہیم نے ایک خواب دیکھا کہ وہ اسمعیل کو خُدا تعالٰی کے لئے قربان کر رہے ہیں۔اس زمانہ میں انسانوں کی قربانی کا عام رواج تھا اور اُسے خُدا تعالیٰ کے فضل کے حصول کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ابراہیم نے بھی خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ میر سے اخلاص کا امتحان لینا چاہتا ہے اس لئے جھٹ اپنے بڑھاپے کی اولاد کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔اور بچہ سے محبت کے ساتھ پو چھا کہ تیری مرضی کیا ہے۔بچہ کو چھوٹا تھا مگر نور نبوت اُس کی پیشانی سے چمک رہا تھا۔نیک باپ کی تربیت کی وجہ سے گو ابھی مذہب کی باریکیاں نہ سمجھتا ہو لیکن اس قدر جانتا تھا کہ الہ تعالیٰ کے حکم کو نہیں ٹالنا چاہیئے وہ بولے جس طرح چاہو اللہ کے حکم کو پورا کرو۔باپ نے آنکھوں پر پٹی باندھی اور بیٹے کو ذبح کرنے