فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 26 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 26

۲۶ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جسکسی ذریعہ سے خُدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر نے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کر سے اسکی بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کہ سے یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں خارج ہو جاتے ہیں یا مکہ خامی اور کنج پینے کے زمانہ میں یہ امور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔صلوۃ کا لفظ پرسوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی چاہیئے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہے تب اس کا نام صلوۃ ہے۔نماز اور دُعا نمازہ کے ذریعہ اسلام نے دنیا کا راستہ کھولا ہے۔دعا نماز کا اہم حصہ ہے کیونکہ دعا دعا ہی کے ذریعہ دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوتی ہیں ہر ایک بیت العلم کی کبھی دعا ہے اور کوئی علم و معرفت کا دقیقہ نہیں جو بغیر اس کی ظہور میں آیا ہو۔دُعا کیا ہے ؟ جب ہم فکر و غور کے وقت ایک مخفی امر کی تلاش میں نہایت عمیق دریا میں اتر کر ہا تھ پاؤں مارتے ہیں تو ہم اس حالت میں بنزبان حال اس اعلی طاقت سے فیض طلب کر تے ہیں جسے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اس طلب فیضان کا دوسرا نام دُعا ہے۔جب ہماری روح ایک چیز کی طلب میں بڑی سرگرمی اور سوز و گداز کے ساتھ مبداء فیض کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور اپنے تئیں عاجزہ پا کر فکر کے ذریعہ کسی اور جگہ روشنی ڈھونڈتی ہے تو درحقیقت وہ دُعا سے ہی کام سے رہی ہوتی ہے۔دعا کرنے سے کیا مطلب ہوتا ہے ؟ یہی کہ عالم الغیب جس کو دقیق د دقیق تدبیریں معلوم ہیں کوئی احسن تدبیر دل میں ڈال دے یا بوجہ خالقیت اور قدرت اپنی طرف سے پیدا کر سے۔پس ثابت ہوا کہ دُعا در حقیقت تلاش تدبیر کا نام ہے۔در دیما اور تدابیر انسانی طبیعت کے دو طبیعی تقاضے ہیں جو قدیم سے اور جیسے کہ انسان پیدا ہوا ہے دو حقیقی بھائیوں کی طرح انسانی فطرت کے خادم چلے آئے ہیں۔انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدابیر اور علاج کی طرف مشغول ہوئی ہیں ایسا ہی طبعی جوش سے دُعا صدقہ اور خیرات کی طرف مجھک جاتی ہیں۔اگر دنیا کی تمام قوموں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کسی قوم کا کانشنس اس متفق علیہ مسئلہ کے برخلاف ظاہر نہیں ہوا پس یہ ایک روحانی ه : ملفوظات جلد هفتم من :