فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 309 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 309

ر اسی طرح اگر محل کی مسجد میں اعتکاف بیٹھا ہے تو جمعہ پڑھنے کے لئے جامع مسجد جانے کی بھی اجازت ہے اور اسے بھی حاجت انسانی سمجھا گیا ہے۔ان کے علاوہ باقی ضروریات مثلاً درس القرآن یا اجتماعی دعا میں شامل ہونے۔بال کٹوانے۔کھانا کھا نے نماز جنازہ پڑھنے۔کسی عزیز کی بیمار پرسی کرنے یا کسی کی مشابہت کے لئے باہر آنے کی اجازت میں اختلاف ہے۔اکثر ان اغراض کے لئے مسجد سے باہر آنے کو جائز نہیں سمجھتے اور اعتکاف کی روح بھی اس امر کی مقتضی ہے کہ ان ثانوی اغراض کے لئے مختلف مسجد سے باہر نہ آئے بلکہ کلی انقطاع کی کیفیت اپنے اوپر وارد کرنے کی کوشش کر سے اور اس قسم کی ترغیبات اور خواہشات کی قربانی دینے کا اپنے آپ کو عادی بنائے۔سوال :۔اعتکاف سے متعلق مشہور ہے کہ شاذ و نادر حالات کے سوا مختلف مسجد سے باہر نہ جائے۔شاذ و نادر حالات کی مثال قضائے حاجت کے لئے باہر جانا ہے یا عدالت میں کسی ضروری شہادت کی غرض سے جس میں التواء کی صورت نقصان دہ ہو۔یا بعض نے جنازہ کے لئے بھی اجازت دی ہے یہ پابندی نہ ہو تو اعتکاف کی غرض و غایت مفقود ہو جاتی ہے لیکن بعض بزرگ ان پابندیوں کی پرواہ نہیں کرتے۔اور بعض تو دفتر میں جا کہ اپنا دفتری کام بھی کر لیتے ہیں صحیح صورت حال کی وضاحت کی جائے ؟ جوا ہے :۔گلی انقطاع اعتکاف کا اعلیٰ درجہ ہے۔حضرت عائشہ فرما یا کرتی تھیں کہ سنت یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق کی متابعت یہ ہے کہ مختلف مسجد سے باہر نہ نکلے نہ بیمار کی عیادت کے لئے اور نہ ہی جنازہ میں شامل ہونے کے لئے۔ہاں حوائج ضروریہ کے لئے باہر جا سکتا ہے اور حوائج ضروریہ سے مراد بیت الخلاء جاتا ہے۔کہ تاہم بعض فقہاء نے کہا ہے کہ حوائج ضروریہ میں کچھ وسعت ہے بعض اور ضرورتوں کے لئے بھی مختلف مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔خاص طور پر ضروری شہادت کے لئے جانے کی اہمیت مسلم ہے۔کیونکہ 1 : ممانعت کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی صریح ارشاد موجود نہیں۔لہ :۔سوائے اس کے کہ مجبوری ہو مثلاً گھر سے کھاناں نے والا کوئی نہ ہو : - -:- ابوداؤد کتاب الصیام باب المعتكف يعود المريض ۳۳۵ :