فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 308 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 308

ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی کیا میں نذر پوری کروں۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔چنانچہ حضر عمرو نے ایک رات اعتکاف میں گزاری یہ اس روایت سے معلوم ہوا کہ اعتکاف کے لئے روزہ ضروری نہیں کیونکہ رات کو روزہ نہیں رکھتے۔اسی بناء پر ان ائمہ کے نزدیک دو گھڑی بھی اعتکاف جائز ہے۔لہ سوال ہے :۔اعتکاف کے دوران کیا انسان رات کو مسجد میں چارپائی بچھا کر سو سکتا ہے ؟ جواب : اعتکاف کے دنوں میں ضرورت پڑنے پر مسجد کے کسی کونے میں یا کسی اور مناسب جگہ میں چارپائی بچھا کر سونا جائز ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔بشر طیکہ ایسا کرنے سے مسجد میں نمازہ پڑھنے والوں کو کوئی وقت پیش نہ آئے۔حدیث میں آتا ہے :- اِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِح لَهُ فراتُهُ وَيُوْضَعُ لَهُ سَرِيدُهُ وَرَاءَ اسْتُوَانَةِ التَّوْبَةِ " ٣ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف شروع فرماتے تو آپ کے لئے بستر بچھایا جاتا اور ایک ایسے ستون کی اوٹ میں آپ کی چارپائی بچھائی جاتی جس کا نام تو یہ کاستون تھا۔ایک مشہور واقعہ کی وجہ سے اس ستون کا نام استوانہ پڑ گیا تھا۔سوال : حدیث میں آتا ہے کہ مختلف حوائج ضروریہ کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔جوائیے ضروریہ سے کیا مراد ہے؟ جوا ہے :۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- كَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ إِذَا كَانَ مُعْتَلِفًا : یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں سوائے انسانی حاجت کے گھر میں نہیں آتے تھے انسانی حاجت سے مراد کیا ہے۔اس کا ایک مفہوم بیت الخلاء جاتا ہے اس مفہوم پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ یہ ایسی ضرورت ہے جس کے لئے مسجد سے باہر آنا ضروری ہے۔ه : بخاری کتاب الاعتكان باب اذا نذر في الجاهلية م ، ابو داو ده سه : - نیل الاوطار ص : - : این ماجر كتاب الاعتكاف باب في المعتكف يلزم مكانا من المسجد فا ، نيل الأوطار ص : ۱۹ حاشیه این اجر حاشیه ۲ : شه مسلم کتاب الطهارة باب جواز نغسل الحائض رأس زوجها الخرما :