فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 307 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 307

یعنی اعتکاف ایسی مسجد میں ہو سکتا ہے جس میں باجماعت نماز ہوتی ہو۔قریباً سارے ائمہ اس رائے پر متفق ہیں۔لے سوال : کیا ایسی جگہ جہاں مسجد نہ ہو گھر میں اعتکاف بیٹھا جا سکتا ہے ؟ جوا ہے :۔جب باقاعدہ عام مسجد میسر نہ آئے مثلاً کہیں اکیلا احمدی رہتا ہے یا مقامی جماعت کے افراد کسی دوست کے گھر میں نماز ادا کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اپنے گھر میں ایسی جگہ جو نماز کے لیئے عام طور پر مخصوص کر لی گئی ہو اعتکاف بیٹھ سکتے ہیں۔مجبوری کے حالات کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور وہ بند ے کی نیت کے مطابق اعمال کا ثواب دیتا ہے۔سوال : کیا عورت گھر میں خلوت والی جگہ میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے ؟ جواب : اگر کسی جگہ مسجد نہیں یا مسجد میں عورت کے لئے رہائش کا معقول انتظام نہیں تو عورت گھر س ایک خاص جگہ مقررہ کر کے وہاں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے۔ہر احمدی گھرانے میں جہاں تک ممکن ہو سکے ایک ایسی جگہ ہونی چاہیے جو مسجد البیت رگھر کی مسجد کے طور پر ہو۔گھر کی عورتیں وہاں نما نہ پڑھیں اور مرد سنتیں اور نوافل وغیرہ ادا کریں اور مشکلات کے موقع پر وہاں خلوت گزیں ہو کر دعائیں کی جائیں۔یہ طرفہ عمل بڑی برکات کا موجب ہے اور صحابہ کا اکثر اس کے مطابق عمل تھا۔سوال : کیا بوڑھے آدمی کے لئے جس کے لئے روزہ رکھنا مشکل ہے بغیر روزے کے مسجد میں اعتکاف بیٹھنا جائز ہے ؟ جوا ہے :۔عام حالات میں اعتکاف کے لئے روزہ ضروری شرط ہے۔حضرت عائشہ نہ سے روایت ہے له کہ روہہ کے بغیر اعتکاف درست نہیں۔روایت کے الفاظ یہ ہیں: "لا اعتكاف الا بصوم آیت کو نہ ثُمَّ اتموا القِيَامَ إلى الميل ولا تباشروهن وانتم عاكفون في المساجد کا انداز بیان بھی اسی مسلک کی تائید کرتا ہے۔علاوہ ازیں یہ تصریح کہیں نہیں ملتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ کبھی روزہ کے بغیر اعتکاف بیٹھے ہوں۔صحابہ میں سے حضرت ابن عباس - حضرت ابن عمر اور ائمہ میں سے امام مالک۔امام ابو حنیفہ۔امام روز اعلی کا یہی مسلک ہے اور سلسلہ احمدیہ کے بزرگان کی بھی یہی رائے ہے اس کے برعکس حسن بصری۔امام شافعی اور امام احمد اعتکاف کے لئے روزہ کو شرط نہیں مانتے۔یہ بزرگ اپنی رائے کی تائید میں یہ روایت پیش کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمریض نے پوچھا کہ میں نے - نیل الاوطار له -: ابوداؤد کتاب الاعتكاف باب المعتكف يعود المريض :- البقرة : ١٨٨: ۳۳۵