فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 306 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 306

القى نفسه بين يدي الرحمن فقال والله لا ابرم حتى ترحمني بيه یعنی مختلف کلی طور پر اپنے آپ کو خدا کے حضور میں ڈال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اسے خُدا تجھے تیری ہی قسم میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ تو مجھ پر رحم فرمائے۔نیز فرمایا : مَنِ اعْتَكَفَ يَوْمَا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ ثَلاثَ خَنَادِقَ ابْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْحَا فَتَيْنِ هِ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک دن اعتکاف بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی خند قیس بنادے گا جن کے درمیان مشرق و مغرب کے مابین فاصلہ سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگا۔عَنِ ابْنِ عَبَّاس اَن رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ هُو يَعْتَكِفُ الذُّنُوبِ يختلف عَنِ اللَّهِ نُوبِ وَيَجْرِى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ لَعَامِلِ الحَسَنَا كلها الحَسَنَات یعنی۔رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے متعلق فرمایا کہ متکف اعتکاف کی وجہ سے جملہ گنا ہوں سے محفوظ رہتا ہے۔اُسے ان نیکیوں کا بدلہ جو اس نے اعتکاف سے پہلے بجالائی تھیں اسی طرح اخیر ملتا رہتا ہے جیسا کہ وہ اب بھی انہیں بنجارا رہا ہے۔فتاوی سوال: کیا یہ جائز ہے کہ جامع مسجد کے سوا کسی قریبی مسجد میں اعتکاف بیٹھا جائے ؟ جواب : - صحت اعتکاف کے لئے ضروری شرط ایسی مسجد ہے جس میں باجماعت نمازہ ہوتی ہے۔ابو داؤد کی حدیث ہے کہ :- لا اعْتِكَانَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ " له در منثور جلد اول زیر اتيت وانتم ماكفون في المساجد - در مشورت بلا دل بحوالہ طبرانی اوسط و بیعتی : ابن ماجہ کتاب الاعتکاف باب ثواب الاعتكان ما : ه: - ابو داود المحتلف يعود المريض ٣٣ : -