فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 25 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 25

نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے اس دنیا میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ، راستباز، ابدال، قطب گزرے ہیں انہوں نے یہ مدارج اور مراتب کیونکر حاصل کئے ؟ اسی زمانہ کے ذریعہ سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قرة عيني في الصلاة یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کے لئے اکمل اسم لذت نمازہ ہی ہوتی ہے اور یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے ہیں پیس کشاکش نفس سے انسان نجات پا کر اعلیٰ مقام یہ پہنچ جاتا ہے۔غرض یاد رکھو کہ یقیمون الصلوۃ وہ ابتدائی درجہ اور مرحلہ ہے جہاں نماز ہے ذوقی اور کشاکشی سے ادا کرتا ہے لیکن اس کتاب یعنی قرآن کریم کی ہدایت ایسے آدمی کے لئے یہ ہے کہ اس مرحلہ سے نجات پا کر اس مقام پر جاپہنچتا ہے جہاں نماز اس کے لئے قرۃ العین ہو جاو سے" سے صلواۃ کے معنے حرکت کرنے اور کو ہلے کو ہلانے کے ہیں اس لحاظ سے نماز کو صلواۃ اس لئے کہا گیا ہے کہ نمازہ بھی انسان کو مستعد اور فرض شناسی بناتی ہے شکست صلواۃ کے مع اور بے کار بیٹھنے نہیں دیتی۔نماز پڑھنے والا انسان اللہ تعالٰی اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے ہمیشہ مستعد اور تیار رہتا ہے کسل مندی اور سستی سے اُسے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔صلوة صَلَّی سے ہے اس کے معنے جلنے اور بھوننے کے ہیں ان معنوں کے لحاظ سے نماز کو صلوۃ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ محبت الہی کو حرارت حاصل ہوتی ہے بلکہ صوفیاء نے تو کہا ہے کہ جس طرح کباب بھونا جاتا ہے اسی طرح نماز میں بھی سوزش محبت لازم ہے جب تک دل بریاں نہ ہو نماز میں لذت اور سرور پیدا نہیں ہوتا۔صلوۃ کے ایک معنے والہانہ دعا اور پکار کے ہیں اور نماز کا مغز اور اس کی روح بھی دعا ہے یعنی نماز میں انسان اللہ تعالیٰ کی محبت کا سوالی بن کر اس کے دربار میں جاتا ہے اس لئے نمازہ کو صلوۃ یعنی دعائے مجسم کہا گیا ہے یا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام فرماتے ہیں۔ایک مری میں خیال کیا ک صلوات میں اوردعائیں کیافرق مرود میں آیا ہے کہ الصَّلوةُ فِى الدُّعَا الصَّلوة من العِبَادَةِ یعنی نماز ہی دعا ہے۔نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دُعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلواۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب ، انکسار ، تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوٰۃ ے :۔نسائی باب النساء : 1 سه :- ملفوظات جلد ہشتم ۳۰-۳۱۰ ۳: المفردات زیر لفظ صلا