فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 302 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 302

۳۰۲ گھنٹے کے اندر الگ الگ وقتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔اس شکل میں ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔لیکن جن ملکوں میں رات اور دن چوبیس گھنٹوں سے لیے ہو جاتے ہیں ان علاقوں میں رہنے والوں کے لئے صرف وقت کا اندازہ کرنیکا حکم ہے لیے اعتکاف اعتکاف کے لغوی معنے کسی جگہ میں بند ہو جانے یا ٹھہر سے رہنے کے ہیں۔اسلامی اصطلاح اللَّبْتُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الصَّوْمِ وَنِيَّةِ الاِمکان ہے یعنی عبادت کی نیت سے روزہ رکھ کر مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے۔روزہ کی طرح اعتکاف کا بھی وجود دیگر مذاہب میں ملتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے :- وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ والربع السجود ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکیدی حکم دیا تھا کہ میرے گھر دخا نہ کعبہ کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک اور صاف رکھو۔اسی طرح حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق آتا ہے وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذا نَتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيَّا فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا له یعنی حضرت مریم کچھ عرصہ کے لئے اپنے رشتہ داروں کو چھوڑ کہ عبادت کی خاطر ایک الگ تھلگ مقام کی طرف چلی گئیں تھیں جہاں انہیں ایک عظیم فرزند کی بشارت ملی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعثت سے قبل کے ایام میں دنیوی اشغال سے فارغ ہو کر غار حمد میں یاد خداوندی میں مشغول رہنا بھی ایک رنگ کا اعتکاف ہی تھا۔اعتکاف انسان جب چاہے اور جس دن چاہے بیٹھ سکتا ہے لیکن رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھنا مسنون ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کے بارے میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ :۔كان يعتكف العشر الاواخر مِن رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ - دیبا چه تغیر القرآن شدم که هدايه باب الاعتكاف : ١٥٣ - سورة البقره : ۱۲۶ : ۱۵ - سورۃ مریم : ۶۱۸۷۱۷