فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 298
۲۹۸ کا موجب یقینا ہے لیکن یہ شرط لازم نہیں کہ اس کے بغیر فدیہ ادا ہی نہ ہو۔جان بوجھ کر روزه تورونیا جو شخص جان بوجھ کہ روزہ رکھ کر توڑد سے وہ سخت گنہگار ہے۔ایسے شخص پر بغرض تو بہ کفارہ واجب ہوگا۔یعنی پے در پے اُسے ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے یا ساٹھ مسکینوں کو اپنی حیثیت کے مطابق کھانا کھلانا پڑے گا یا ہر مسکین کو دوسیر گندم یا اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔توبہ کے سلسلہ میں اصل چیز حقیقی ندامت ہے جو دل کی گہرائیوں میں پیدا ہوتی ہے اگر یہ کیفیت انسان کے اندر پیدا ہو جائے لیکن اس کو ساٹھ روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی استطاعت نہ ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کے فضل پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔اس صورت میں استغفار ہی اس کے لئے کافی ہو گا۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دہائی دینے لگا۔یا حضرت میں ہلاک ہو گیا۔حضور نے فرمایا کہ کس نے تجھے ہلاک کیا ہے ؟ اس نے عرض کی کہ حضور روزہ کی حالت میں میں اپنی بیوی کے پاس چلا گیا ہوں۔حضور نے فرمایا کیا تو غلام آزاد کر سکتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔پھر حضورا نے پوچھا ساٹھ روز سے مسلسل رکھ سکتا ہے ؟ اس نے عرض کی حضور نہیں اگر ایسا ہو سکتا اور شہوانی جوشن روک سکتا تو یہ غلطی ہی سرزد کیوں ہوتی۔حضور نے فرمایا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو۔ار نے کہا غربت ایسا کرنے سے مانع ہے۔حضور نے فرمایا تو پھر بیٹھو۔اتنے میں کوئی شخص ایک ٹوکری کھجوروں کی لے آیا۔آپ نے فرمایا اٹھا ہے۔اور اسے مسکینوں کو کھلا دے۔ٹوکری لے کر عرض کرنے لگا۔مجھ سے زیادہ اور کون غریب ہوگا۔مدینہ بھر میں سب سے زیادہ محتاج ہوں۔حضور اس کی اس لجاجت پر کھلکھلا کر ہنس پڑے اور فرمایا جاؤ اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دو۔ماہ رمضان میں ایک شخص جس کا روزہ نہیں اپنی ایسی بیوی سے ہمبستری کرتا ہے جس کا روزہ ہے اور وہ خاوند کو بتا بھی دیتی ہے۔کیا حکم ہے ؟ جوا ہے :۔بیوی کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔البتہ اگر وہ رضامند نہ تھی تو اس پر بطور سزا کوئی کفارہ نہیں ہاں وہ یہ روزہ دوبارہ رکھے گی اور اگر وہ بھی رضا مند تھی تو وہ کفارہ ادا کر ے ساٹھ روز سے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور خاوند تو گنہگار ہے ہی اسے تو بہ و استغفا را در آئندہ کے لئے اس حرکت سے اجتناب کا پختہ عہد کرنا چاہیئے۔اور کفارہ بھی۔وال :