فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 297
ہوگا جو دو وقت کے کھانے کے لئے کفایت کرے گا۔یہ ضروری نہیں کہ فدیہ کسی ایسے غریب کو ہی دیا جائے جو روزہ رکھتا ہو۔اصل مقصد مستحق نا دار کو کھانا کھلانا ہے خواہ وہ خود روزہ رکھ سکتا ہو یا کسی عذر کی بناء پر نہ رکھ سکتا ہو اسی طرح فدیہ اُسی پر واجب ہے جو ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو ورنہ ایک غیر مستطیع کے لئے ندامت - توبہ استغفار - دعا۔ذکر الہی اور خدمت دین کا استلزام کفایت کرے گا۔دائمی مسافر اور مریض فدیہ دے سکتے ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مورخہ ۳۰ اکتوبر نشاستہ کو فرمایا :- درجن بیماروں اور مسافروں کو اُمید نہیں کہ کبھی پھر روزہ رکھنے کا موقع مل سکے مثلاً ایک بہت بوڑھا ضعیف انسان یا ایک کمزور حاملہ عورت جو دیکھتی ہے کہ بعد وضع حمل سبب بچے کے دودھ پلانے کے وہ پھر معذور ہو جائے گی اور سال پھر اسی طرح گذر جائے گا۔ایسے شخص کے واسطے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں کیونکہ وہ روزہ رکھ ہی نہیں سکتے اور فدیہ دیں۔ندیہ صرف شیخ خانی یا اس جیسوں کے واسطے ہو سکتا ہے جو روزہ کی طاقت کبھی بھی نہیں رکھتے۔باقی اور کسی کے واسطے جائز نہیں کہ صرف فدیہ دے کر روزے کے رکھنے سے معذور سمجھا جاسکے۔عوام کے واسطے جو صحت پا کر روزہ رکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں صرف فدیہ کا خیال کرنا اباحت کا دروازہ کھولنا ہے" سے سوال :۔روزے رکھنے کے لئے جسے بطور فدیہ پیسے دینے ہیں اُسے پہلے سے کسی اور نے بھی فدیہ کے پیسے دے رکھے ہیں اصل حکم کیا ہے ؟ ہوا ہے :۔یہ خیال غلط ہے کہ کسی کو پیسے دے کہ روز سے رکھوائے جائیں۔اصل حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بوجه معذوری روز سے نہیں رکھ سکتا تو وہ ہر روزہ کے بدلہ کسی مسکین محتاج کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا اس کھانے کی قیمت ادا کرے جس مستحق کو فدیہ دیا گیا ہے اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اسکی بدلہ میں وہ اس کی طرف سے روزہ بھی رکھے اگر وہ نادار خود بیما رہے ضعیف العمر ہے یا نا بالغ ہے تو وہ روزہ نہیں رکھے گا۔لیکن اس کے باوجود اپنی محتاجی کے پیش نظر فدیہ لینے کا مستحق ہوگا۔البتہ جس مستحق کو فدیہ دیا گیا اگر وہ روز سے رکھتا ہے تو یہ امر مزید ثواب ل : فتاوی احمدیہ مشا :