فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 296 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 296

۲۹۶ کہ وہ ان روزوں کی قضاء سے پہلے ہی اپنے مولیٰ کو پیارا ہو جائے۔اس صورت میں اس کے ورت پر لازم ہو گا کیا وہ اس کی طرف سے ان روزوں کا فدیہ ادا کریں یا اتنے روز سے رکھیں جو اُس کے رہ گئے تھے۔رمضان کے روزوں کا لازمی فدیہ صرف ایسے ذی استطاعت لوگوں کے لئے ہے جن کے متعلق یہ توقع نہ ہو کہ مستقبل قریب میں ان روزوں کی قضاء کر سکیں گے جیسے بوڑھا ضعیف ہے یا کوئی دائم المرض ہے یا حامہ اور مرضعہ ہے۔علامه ابن رشد بداية المجتھد میں لکھتے ہیں امَّا حُكْمُ الْمُسَافِرِ إِذَا افْطَرَ فَهُوَ الْقَضَاءُ بِاتِّفَاقِ وَكَذَلِكَ الْمَرِيضُ لِقَوْلِهِ تَعَالَى " فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرُ لَهُ صاحب اوجز المسالک لکھتے ہیں :- الْعَامِلُ وَالْمُرْضِع إِذَا افْطَرَنَا مَاذَا عَلَيْهِمَا وَهَذِهِ الْمَسْئَلَةُ لِلْعُلَمَاءِ فِيْهَا ارْبَعَةٌ مَذَا هِبَ اَحَدُهَا إِنَّهَا يُطْعِمَانِ وَلَا قَصَاءَ عَلَيْهِمَا وَهُوَ مَرْوِيٌّ عَنْ ابْنِ عَجَاسَ " " وَفِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنِ المُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلوةِ وَعَنِ الْعَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ له قدید کی مقدار کیا ہے اس بارہ میں اصولی ہدایت یہ ہے کہ : مِن أوسَطِ مَا تُطْعِمُونَ اهْلِيكُمْ فه۔پس اس اصول کو مد نظر رکھا جائے۔البتہ امام ابو حنیفہ نے اس کا اندازہ گندم کے لحاظ سے نصف صاع یعنی پونے دوسیر کے قریب بیان کیا ہے۔اور یہ ایک فوت شدہ روزہ کا فدیہ له - بداية المجتهد جلد اول م۲ : ۱۹ - اوجز المسالک شرح موطا مالک من جلدم ، بداية المجتهد: ه - ترندی کتاب الصوم باب الرخصة في الافطار للحبلى والمرضع طب : المائدة آيت ٩٠+ شو صارع : ناپنے کا پیمانہ جس کا حجم ۱، ۲۶ لیٹر کے مساوی ہوتا ہے جو مساوی ہے ۲۷۰ مکعب سنٹی میٹر کے۔اس حجم کے پیما میں اہ، نوگرام پانی آتا ہے جو سادی ہے ۲ سیرہ نے تولہ ماشہ ۸۳ و ارتی کے لیکناس حجم کے پیمانہ میں گیہوں کی جو مقدار آتی وہ ساری ہے ۷۳ ۲۱ گرام ۲۰ سیر ۲ تولہ ۳ ماشہ اوہ رتی۔لہذا گیہوں کی مقدار کے اعتبار سے ایک صاع ۲۹ ۷۳۰ ۲۱ گرام ، میری ۲ تولہ ۶ ماشد اوره رتی۔نیز ایک صاع ٥ رطل۔ایک دوسر تحقیق کے مطابق ایک صاع - ۲ سیر ۲۹ تولہ ۶ ماشه - اسلام کا نظام محاصل میشه :