فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 295
۲۹۵ جیسے حالہ یا دودھ پلانے والی عورت یا ایسا بوڑھا شخص جس کی قومی میں انحطاط شروع ہو چکا ہے یا پھر اتنا چھوٹا بچہ جس کے قومی نشو و نما پا رہے ہیں تو ا سے روزہ نہیں رکھنا چاہیئے اور ایسے شخص کو اگر آسودگی حاصل ہو تو ایک آدمی کا کھانا کسی کو دیدینا چاہیئے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو نہ ہی ایسے شخص کی نیت ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے روزہ کے برابر ہے۔اگر روک عارضی ہو اور بعد میں وہ دور ہو جائے تو خواہ فدیہ دیا ہو یا نہ دیا ہو روزہ بہر حال رکھنا ہوگا کیونکہ فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جاتا بلکہ یہ تو محض اس بات کا بدلہ ہے کہ ان دنوں میں باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس عبادت کو ادا نہیں کر سکتا یا اس بات کا شکرانہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عبادت کرنے کی توفیق بخشی ہے کیونکہ روزہ رکھ کر جو فدیہ دیتا ہے وہ زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی توفیق پاتے پہ خدا تعالیٰ کا شکرانہ ادا کرتا ہے اور جو روزہ رکھنے سے معذور ہو وہ اپنے اس عذر کی وجہ سے بطور کفارہ دیتا ہے۔آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں عارضی اور مستقل۔ان دونوں حالتوں میں فدیہ دینا چاہیئے۔پھر جب عذر دُور ہو جائے تو روزہ بھی رکھنا چاہیئے۔غرضیکہ خواہ کوئی قدیر بھی دیدے لیکن سال دو سال تین سال جب بھی صحت اجازت دے اسے حسب استطاعت روزہ رکھنا ہوگا۔سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد وہ ارادہ کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت مستقل طور پر خراب ہو گئی تو ایسی صورت میں فدیہ کفایت کرے گا ؟ بے سوال : فدیہ رمضان کس پر واجب ہے کیا بوڑھا۔ضعیف۔دائم المریض۔حاملہ - مرضعہ وغیرہ جو آئندہ رمضان تک گنتی پوری کرنے کی توفیق نہ رکھتے ہوں صرف وہی فدیہ دیں یادہ شخص بھی جو وقتی طور پر بیمار ہو کر چند روزسے چھوڑ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور رمضان کے بعد تندرست ہو کہ گنتی پوری کرنے کی توقع رکھتا ہے اور توفیق پاتا ہے۔نیز فدیہ کی مقدار کیا ہے؟ جوا ہے :- عام ہدایت یہ ہے کہ انسان روز سے بھی رکھے اور اگر استطاعت ہو تو فدیہ بھی دے۔روزوں کا رکھنا فرض ہوگا اور فدیہ کا اداکرنا سنت باقی رمضان کے روزوں کا فدیہ اس شخص کے لئے ضروری نہیں جو وقتی طور پر بیمار ہونے کی وجہ سے چند روزے چھوڑ دینے پر مجبور ہو گیا ہو۔سوائے اسکے الفضل ۱۰ اگست ۱۹۲۵ :