فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 294 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 294

۲۹۴ اس لئے اس سے توفیق طلب کرے مجھے یقین ہے کہ ایسے قلب کو خُدا طاقت بخشے گا اگر خدا چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں بھی کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدین بھلائی کے لئے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالی میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا سے محروم نہیں رکھتا اور اسی حالت میں اگر رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہو جاتی ہے کیونکہ ہر کام کا مدار نیت پر ہے مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالی کی راہ میں دلاورثابت کرے۔جو شخص کہ روزہ سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو تو خُدا تعالیٰ ہرگز اُسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔یہ ایک باریک امر ہے۔اگر کسی شخص پر اپنے نفس کے کسل کی وجہ سے روزہ گراں ہے اور وہ اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھاؤں تو فلاں فلاں عوارض لاحق ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خُدائی نعمت کو خود اپنے اوپر گراں گمان کرتا ہے کب اس ثواب کا مستحق ہوگا۔ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آگیا اور اس کا منتظر ہی تھا کہ آد سے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزہ سے محروم نہیں ہے اس دنیا میں بہت لوگ بہا نہ جو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم اہل دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں ویسے ہی خُدا کو فریب دیتے ہیں لیکن وہ خُدا کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔تکلف کا باب بہت وسیع ہے اگر انسان چاہے تو اس کی رُو سے ساری عمر کو بیٹھ کر ہی نما زپڑھتا رہے۔اور رمضان کے روز سے بالکل نہ رکھے مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے خُدا جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خُدا اُسے صل ثواب سے بھی زیادہ دیتا ہے کیونکہ در دل ایک قابل قدر شئے ہے“ لے يدية اگر انسان مریض ہو خواہ وہ مرض لاحق ہو یا ایسی حالت میں ہوجس میں روزہ رکھا یقیناً مریضی بنا دیگا۔: قنادی احمدیه ما 140