فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 290
۲۹۰۔سحری کھانے کے بعد گھر سے سفر شروع ہو اور افطاری سے پہلے پہلے سفر ختم ہو جائے یعنی گھر واپس آجانے کا ظن غالب ہو تو روزہ رکھ سکتا ہے۔۴ - اگر کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنا ہے تو وہاں سحری کا انتظام کیا جائے اور روزہ رکھا جائے۔بیمار اور مسافر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام نے فرمایا کہ : ” جو شخص مریض اور مسافر ہونے کی حالت میں ماہ صیام میں روزہ رکھتا ہے وہ خدا تعالٰی کے صریح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔خُدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ بیمار اور مسافر روزہ نہ رکھے۔مرض سے صحت پانے اور سفر کے ختم ہونے کے بعد روزے رکھے خُدا کے اس حکم پر عمل کرنا چاہیئے کیونکہ نجات فضل سے ہے اور اپنے اعمال کا زور دکھا کر حکم کوئی شخص نجات حاصل نہیں کر سکتا۔خدا تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ مرض تھوڑی ہویا بہت اور سفر چھوٹا ہو یا لمبابلکہ حکم عام ہے اور اس پر عمل کرنا چاہیئے۔مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتوی لازم آئے گا یا لے روزہ رکھنے کی عمر حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :- کئی ہیں جو چھوٹے بچوں سے بھی روزہ رکھواتے ہیں۔حالانکہ ہر ایک فرض اور حکم کے لئے الگ الگ حدیں اور الگ الگ وقت ہوتا ہے۔ہمارے نزدیک بعض احکام کا زمان چاری سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ سات سال سے بارہ سال تک ہے اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ ۱۵ یا ۸ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے میرے نزدیک روزوں کا حکم ۱۵ سے ۸ سال تک کی عمر کے بچے پر عائد ہوتا ہے اور یہی بلوغت کی حد ہے۔ہ سال کی عمر سے روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیئے اور ۱۸ سال کی عمر میں روز سے فرض سمجھنے چاہئیں۔مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے ہمیں بھی روزہ رکھنے کا شوق ہوتا تھا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہیں روزہ نہیں رکھنے دیتے تھے اور بجائے اس ه بدر ، اکتوبر شاه : 14