فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 289
۲۸۹ سوال ہے :۔اگر کسی روزہ دار کو سفر کرنے کی ضرورت پیش آئے تو کیا وہ روزہ توڑ سکتا ہے ؟ جواب :۔رمضان کے دنوں میں حتی الوسع سفر سے بچنا چاہیے۔اور ضرورت کے وقت ہی سفر پر جانا چاہیے۔کونسا سفر ضروری ہے اس کا فیصلہ خود سفر کرنے والے کی صوابدید پر ہے اور وہی اللہ تعالٰی کے سامنے جوابدہ ہے کوئی دوسرا اس کے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتا۔باقی سفر کوئی سا ہو جب تک وہ جاری ہے اس میں روزہ نہیں رکھنا چاہیئے۔روزہ رکھ کر سفر شروع کرنا سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے تھے:۔سفر کے متعلق میرا عقیدہ اور خیال یہی ہے ممکن ہے بعض فقہاء کو اس سے اختلاف ہو کہ جو سفر سحری کے بعد شروع ہو کہ شام کو ختم ہو جائے وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔سفر میں روزہ رکھنے سے شریعیت روکتی ہے۔مگر روزہ میں سفر کرنے سے نہیں روکتی۔پس جو سفر روزہ رکھنے کے بعد شروع ہو کر افطاری سے پہلے ختم ہو جائے وہ روزہ کے لحاظ سے سفر نہیں۔روزہ میں سفر ہے سفر میں روزہ نہیں 1 سوال : بحالت سفر روزہ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔نیز کتنے میں تک کا سفر ہو جس میں روزہ نہیں رکھنا چاہیے ؟ جواب :۔سفر میں رمضان کا روزہ نہیں رکھنا چاہئیے۔البتہ رمضان کے احترام میں یہ سر عام کھانے پینے سے اختراز کرنا ستحسن ہے۔سفر اور اس کی مسافت کی کوئی شرعی صدا در تعریف مقرر نہیں اسے انسان کی اپنی تمیز اور قوت فیصلہ پر رہنے دیا گیا ہے لیے سفر میں روزہ سے کی چار صورتیں ہو سکتی ہیں :- اگر سفر جاری ہو یعنی پیدل یا سواری پر۔اور چلتا چلا جارہا ہو تو روزہ نہ رکھا جائے۔کیونکہ اس صورت میں روزہ چھوڑنا ضروری ہے۔۔اگر سفر کے دوران کسی جگہ رات کو ٹھہرنا ہے اور سہولت میسر ہے تو روزہ رکھا جاسکتا ہے یعنی روزہ رکھنے اور نہ رکھتے دونوں کی اجازت ہے۔جبکہ دن بھر وہاں قیام ہے۔له الفضل میر ے :۔سفر کی مزید تفصیل کے لئے دیکھیں باب قصر الصلواۃ