فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 287
۲۸۷ معلوم ہوا کہ اس وقت سفیدی ظاہر ہو گئی تھی اب یکیں کیا کروں ؟ جواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ایسی حالت میں اس کا روزہ ہو گیا دوبارہ رکھنے کی حاجت نہیں کیونکہ اپنی طرف سے اُس نے احتیاط کی اور نیت میں فرق نہیں ؟ لے سوال : - قرآن کریم کی آیت تم اتموا القيامَ إِلَى : نَّيْلِ میں آنیل سے از روئے لخت کیا مراد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ کی افطاری کے بارہ میں کیا عمل تھا؟ جوا ہے :۔لغت میں لیل کے معنی ہیں " من مغرب الشمس الى طلوع الشمس يعنى سوج کے غروب ہونے سے لے کر اُس کے طلوع ہونے تک کے وقت کولیل کہتے ہیں لیکن سنت متواترہ اور امت کے اجتماعی عمل سے یہ امر ظاہر ہے کہ آیت مذکورہ میں ساری رات مراد نہیں بلکہ اس کا کوئی حصہ ہے جس میں روزہ کھولنا ہے۔اب ہم اس حصہ کی تعین کے لئے قرآنی محاورہ پر غور کرتے ہیں تو یہ رات کا آغاز یعنی سورج کے غروب ہونے کا وقت بنتا ہے کیونکہ الیٰ کا مفہوم یہ ہے کہ روزہ رات آنے تک رکھتا ہے اور اس کے شروع ہوتے ہی افطار کر لینا ہے چنانچہ احادیث بھی اسی مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔بخاری اور سلم کی حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " إِذَا اقْبَلَ اللَّيْلُ وَادْبَرَ بنَهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ فَطَرَ القائم ہے کہ جونہی مشرق سے رات آئے اور مغرب کی طرف دن جائے یعنی سورج افق میں غائب ہو جائے تو اُسی وقت روزہ دار کو روزہ کھول لینا چاہیئے۔اسی طرح فرمایا " لا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرِ مَا عَقَلُوْ الْفِطْرَ ۳۔جب تک لوگ روزہ جلدی افطار کرتے رہیں گے اُس وقت تک بہتری اور بھلائی اُن کے ساتھ رہے گی۔ابن ماجہ کی حدیث ہے کہ حضور علیہ اسلام نے فرمایا یہود و نصاری روزہ افطار کر نے میں دیر کرتے ہیں مسلمانوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔اے ترندی کی حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزہ جلدی افطار کرنے کا خاص اہتمام فرمایا ه بدر ۱۳ فروری شای فتادی مسیح موعود ص : ه: - بخاری کتاب الصوم باب متى يجيل نطر الصائم ، مسلم باب انا وقت انقضاء الصور الخاصه - ترندی کتاب الصوم من : که بخاری باب تعجیل الافطار ما عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر مسلم عجلوا الفطر فان الیهو دیر خرون را این ماجه کتاب الصوم باب ماجاء في تعجيل الافطار صا :