فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 23 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 23

۲۳ ایسا نہ ہو جو یقیمون الصلوۃ کے حکم پر عمل نہ کر رہا ہو۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا صرف یہی کام نہیں خود نمازیں پڑھو کہ ہمارا یہ بھی کام ہے کہ تم لگوں کونمانہ کی تحریک کر کے ان پڑھوں کو نماز کا ترجمہ کھا کے اور نماز پڑھنے والوں کونماز کی مزید رغبت دل کے دنیا یں پوری مضبوطی کیساتھ نمازوں کا رواج قائم کر دولہ اقامت الصلوۃ کے چوتھے معنے یہ ہیں کہ نماز با جماعت ادا کی جائے۔نماز با جماعت شروع ہونے سے پہلے جو اقامت کہی جاتی ہے اس میں انہی معنوں کی طرف اشارہ ہے گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا صرف یہی فرض نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو بلکہ یہ بھی فرض ہے کہ تم جماعت کے ساتھ نماز پڑھو مطلب یہ کہ ہم تمہیں صرف عبادت کا حکم نہیں دیتے بلکہ باجماعت عبادت کا حکم دیتے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام فردی مذہب نہیں بلکہ قومی مذہب ہے۔باقی سارے مذاہب میں اگر افراد الگ الگ عبادت کرتے ہیں تو وہ بڑے زاہد ، بڑے عابد ، بڑے پر ہیز گار اور بیڑ سے عارف سمجھے جاتے ہیں کہ یہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کا وصال حاصل ہے مگر اسلام کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص یا جماعت نماز ادا نہیں کرتا تو خواہ وہ علیحدگی میں کتنی عبادتیں کرتا ہو وہ ہر گز نیک اور پارسا نہیں سمجھا جا سکتا اور اسے ہرگز قوم میں عزت کا مقام نہیں دیا جا سکتا۔یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جو اسلام اور غیر مذاہب میں پایا جاتا ہے۔پس وہ لوگ جن کو دوسری قومیں محض علیحدگی میں عبادت کرنے کی وجہ سے بزرگ قرار دیتی ہیں۔اسلام ان کو مرتد و مردود قرار دیتا ہے۔دنیا ان کو خدا رسیدہ سمجھتی ہے اور اسلام ان کو اللہ تعالی کے قریبے راندہ ہو سمجھتا ہے کیونکہ اسلام کہتا ہے اقیموا الصلوۃ ہم نے تمہیں صرف اتنا حکم نہیں دیا کہ تم نمازیں پڑھو بلکہ ہمارا حکم یہ ہے کہ تم لوگوں کےساتھ مل کر نمازیں پڑھو اور اپنی ہی حالت کو درست نہ کرو بلکہ ساری قوم کو سہارا دیکر اس کی روحانیت کو بلند کرو اور قوم سے دور نہ بھا گو بلکہ اس کے ساتھ رہو اور ہوشیار چوکیدار کی طرح اس کے اخلاق اور روحانیت کا پہرہ دو سے اقامت کے پانچویں معنے کسی چیز کو جو گرا چاہتی ہے کھڑا رکھنے اور اسے گرنے نہ دینے کے ہیں یعنی نماز کو قائم رکھنے کی کوشش میں لگا رہنا چاہیئے اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان یکساں حالت میں نہیں رہتا۔بعض اوقات وہ نماز میں پریشان خیالی سے بھی دوچار ہو سکتا ہے لیکن اسے اسے یا یوسی نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی اپنی نمازہ کو بے کار سمجھنا چاہیئے بلکہ درست طریق پر ادا کرنیکی کوشش میں لگا رہنا چاہیئے کیونکہ الہ تعالیٰ بندوں سے اسی قدر قربانی کی امید کرتا ہے جتنی قربانی ان کے بس میں ہو۔پس ایسے نمازی جن کے خیالات پراگندہ ہو جاتے ہیں اور نماز میں اپنی توجہ قائم نہیں رکھ تغیر کبیر جلد شتم زد چهارم و ان سے تفسیر کبیر جلد ششم جز و چهارم حصہ دوم ۳ و