فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 281 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 281

۲۸۱ الواحده یعنی کیا یہ ضروری ہے کہ اگر ایک علاقہ میں چاند دیکھا گیا ہو تو دوسرے علاقہ والے جنہوں نے چاند نہیں دیکھا اس علاقہ کے لوگوں پر اعتبار کر کے ان کی پیروی کریں یا یہ ضروری نہیں ؟۔۔اس سوال کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں۔امام ابو حنیفہ اور امام شافعی وغیرہ کہتے ہیں کہ اگر افق ایک ہے تو پیروی ضروری ہے اور اہل مدینہ کی روایت کے مطابق امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ ایک افق کی صورت میں بھی پیروی ضروری نہیں۔ہاں اگر اس علاقہ کی مسلمان حکومت ان کی رویت کے مطابق فیصلہ کرے اور اتباع کا حکم دے تو پھر پیروی کرنی چاہیے۔اور اگر دونوں علاقے بہت دُور دُور واقع ہوں۔اس طرح کہ دونوں کے مطالع بکلی مختلف ہوں جیسے جہاز اور اندلس کے مطلع رافق) میں فرق ہے تو پھر ایک علاقہ کے لوگوں کا چاند دیکھنا دوسرے علاقہ والوں پہ اثر اندازہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی پیروی ضروری ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت کریب نے ایک دفعہ کسی کام کے لئے شام گئے وہاں انہوں نے جمعرات کو رمضان کا چاند دیکھا۔جب وہ مدینہ واپس آئے تو حضرت ابن عباس نے ان سے پوچھا کہ کب چاند دیکھا تھا۔انہوں نے کہا جمعرات کو۔اور وہاں کے لوگوں نے اس کے مطابق روزے رکھے ہیں۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہم نے ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا تھا اور ہم اس کے مطابق اپنے روز سے پورے کریں گے۔اس پر حضرت کریب نے کہا کیا حاکم وقت حضرت معاویہ کا چاند دیکھنا آپ کے لئے کافی نہیں۔حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضورصلی الہ علیہ وسلم کا ایسا ہی حکم ہے ہے اس حدیث سے یہی مترشح ہوتا ہ ہے کہ دُور کے ممالک اختلاف مطلع کی بناء پر ایک دوسرے کی رویت کے لازماً پابند نہیں ہیں۔تاہم اگر دونوں علاقوں کے مطالع میں کوئی خاص فرق نہ ہو تو اتحاد افق کی وجہ سے ایک علاقہ کی رویت کا دوسرے علاقہ والوں کو اعتبار کرنا چاہیئے اور اسے تسلیم کر کے بداية المجتهد كتاب الصيام من جلدا : : تريدي كتاب الصوم باب لكل اصل بلد رويتهم ۱۵ ترندی کتاب الصیا در باب لكل اهل بلد د ويتهم من جلد اول : شده جلد اول