فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 265
قبر سگی بنانا ۲۶۵ سوال :۔میں اپنے بھائی کی پکی قبر بناؤں یا نہیں ؟ جوا ہے :" اگر نمود اور دکھلاوے کے واسطے پکی قبریں اور نقش و نگار اور گنبد بنائے جاویں تو یہ حرام ہے۔لیکن اگر خشک ملا کی طرح یہ کہا جاو ہے کہ ہر حالت اور ہر مقام میں کچی ہی اینٹے لگائی جاؤ سے تو یہ بھی حرام ہے۔إِنَّمَا الاَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ عمل نیت پر موقوف ہے۔ہمارے نزدیک بعض وجوہ میں کچی کرانا درست ہے۔مثلاً بعض جگہ سیلاب آتا ہے بعض جگہ قبر میں میت کو کتنے اور بجو وغیرہ نکال لے جاتے ہیں۔مُردے کے لئے بھی ایک عزت ہوتی ہے۔اگر ایسی وجود پیش آجائیں تو اس حد تک کہ نمود اور شان نہ ہو بلکہ صدمہ سے بچانے کے لئے قبر کا پکا کرنا جائز ہے۔اللہ اور رسول نے مومن کی لاش کے لئے بھی عزت رکھی ہے۔ورنہ معزت ضروری نہیں تو غسل دینے کفن دینے۔خوشبو لگانے کی کیا ضرورت ہے۔مجوسیوں کی طرح جانوروں کے آگے پھینک دو۔مومن اپنے لئے ذلت میں رہنا نہیں چاہتا۔حفاظت ضروری ہے۔جہاں تک نیست صحیح ہے خُدا تعالیٰ مؤاخذہ نہیں کرتا۔دیکھو مصلحت انہی نے یہی چاہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پختہ گنبد ہوا اور کئی بزرگوں کے مقبرے پختہ ہیں۔مثلاً نظام الدین فرید الدین - قطب الدین معین الدین رحم الله علیہم۔یہ سب صلحاء تھے “ لے قبه یا روضہ بنانا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :- " اگر قبر کی حفاظت کے لئے ضروری نہ ہو تو قبہ وغیرہ کی ضرورت نہیں۔اور اگر یادگار کے خیال سے قبہ بنایا جائے توئیں ایسی یادگار کا قائل نہیں کہ اس کے لئے قبہ ضروری ہو۔یہی خیال ہے جسے آگے شرک پیدا ہوتا ہے۔پس پروڈکشن (حفاظت) تو ٹھیک ہے لیکن میموریل زیاد گار ٹھیک نہیں کیونکہ قبر کی اس رنگ میں یاد گا ر ہی وہ چیز ہے جو آگے شرک تک پہنچا دیتی ہے۔بے شک ہم تو احترام کے طور پر قبے بنائیں گے لیکن دوسرے لوگ اس احترام کو اس حد تک پہنچا دیں گے کہ جس کی شرک شروع ۹۲ الحكم ارمی نشائه - فتاوی مسیح موعود هشت ۹۳۔