فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 264
۲۶۴ ایک دعائے مغفرت ہے۔پس اس میں کیا مضائقہ ہے ؟ جواب :۔فرمایا یہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہاں سوائے غیبت اور بے ہودہ بکو اس کے اور کچھ نہیں ہوتا۔پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام و ائمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا۔جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے۔خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی۔ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں۔ناجائز ہے۔اے ختم اور ختم کیے لوڑیاں سوال : ختم کی ریوڑیاں وغیرہ سے کہ کھانی چاہئیں کہ نہ ؟ جوا ہے : " ختم کا دستور بدعت ہے۔شرک نہیں ہے۔اس لئے کھا لینی جائز ہیں۔لیکن ختم دلوانا نا جائز ہے اور اگر کسی پیر کو حاضر و ناظر جان کر اس کا کھانا دیا جاتا ہے وہ ناجائز ہے " ہے مرده پر نوحه " ماتم کی حالت میں جزع فزع اور نوحہ یعنی سیا پا کرنا اور چیخیں مار کر رونا اور بے صبری کے کلمات زبان پر لانا۔یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کے کرنے سے ایمان کے جانے کا اندیشہ ہے اور یہ سب رسمیں ہندوؤں سے لی گئی ہیں۔جاہل مسلمانوں نے اپنے دین کو بھلا دیا اور ہندوؤں کی رسمیں اختیار کر لیں کیسی عزیز اور پیار سے کی موت کی حالت میں مسلمانوں کے لئے یہ حکم قرآن شریف میں ہے کہ صرف إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجعون کہیں۔یعنی ہم خُدا کا مال اور ملک ہیں اسے اختیار ہے جب چاہے اپنا مال لے لے اور اگر رونا ہو تو صرف آنکھوں سے آنسو بہانا جائز ہے اور جو اسے زیادہ کر سے وہ شیطان ہے۔براہر ایک سال تک سوگ رکھنا اور نئی نئی عورتوں کے آنے کے وقت یا بعض خاص دنوں میں سیا پا کرنا اور باہم عورتوں کا سٹر کرا کر چلانا ہونا اور کچھ کچھ منہ سے بھی بکو اس کرنا اور پھر برابر ایک برس تک بعض چیزوں کا پکانا چھوڑ دینا اس عذر سے کہ ہمارے گھرمیں یا ہماری برادری میں ماتم ہوگیا ہے یہ سب نا پاک رسمیں ہیں اور گناہ کی باتیں ہیں جن سے پر ہیز کرنا چاہیئے “ کے : بدر ۱۶ مارچ شده ، ۱۹ مئی شله : ۵۳:- بدر ۱۶ پارچ له سه : فتادی مسیح موعود منا :