فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 263
۳۶۳ جوا ہے :۔" اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے صرف دُعا اور صدقہ میت کو پہنچتی ہے۔مومن کو چاہیے کہ نماز پنجگانہ ادا کرے اور رکوع سجود میں میت کے لئے دُعا کرے۔یہ طریق نہیں ہے کہ الگ کلام پڑھ کر بجتے۔اب دیکھو لغت کا کلام منقول چلا آتا ہے کسی کا حق نہیں ہے کہ اپنی طرف معنے گھڑے۔ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو امر ثابت ہو اس پر عمل کرنا چاہیے۔نہ کہ اپنی من گھڑت پر ایک طریق اسقاط کا رکھا ہے کہ قرآن شریف کو چکر دیتے ہیں۔یہ اصل میں قرآن شریف کی بے ادبی ہے۔انسان خُدا سے سچا تعلق رکھنے والا نہیں ہو سکتا۔جب تک سب نظر خدا پر نہ ہو۔اے مردہ کی استقاط سوال -: - لوگ مُردہ کے پاس کھڑے ہو کر اسقاط کراتے ہیں کیا اس کا کوئی طریق جائز ہے ؟ جواہے :۔فرمایا یہ اس کا کہیں ثبوت نہیں ہے۔ملاؤں نے ماتم اور شادی میں بہت سی ریمیں پیدا کر لی ہیں یہ بھی ان میں سے ایک ہے " ۲ میت کے لئے قل سوال : میت کے لئے قل جو تیسرے دن پڑھے جاتے ہیں ان کا ثواب اسے پہنچتا ہے جوار نہیں؟ جو اسے " قل خوانی کی کوئی اصل شریعیت میں نہیں ہے دُعا اور استغفار میت کو پہنچتی ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ملانوں کو اسے ثواب پہنچ جاتا ہے۔سو اگر انہیں ہی کو مردہ تصویر کر لیا جاد سے تو ہم مان لیں گے۔ہمیں تعجب ہے کہ یہ لوگ ایسی باتوں پر امید کیسے باندھ لیتے ہیں۔دین اسلام تو ہم کو نبی کریم سی للہ علیہ وسلم سے ملا ہے اس میں ان باتوں کا نام تک نہیں۔صحابہ کرام یہ بھی فوت ہوئے۔کیا کسی کے قتل پڑھے گئے صد ہا سال بعد اور بدعتوں کی طرح یہ بھی ایک بدعت نکل آئی ہوئی ہے" سے مُردہ کے فاتحہ خوانی سوال : کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جگہ جمع رہتے ہیں اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں فاتحہ خوانی را ه بدر ۱۰ مارچ سنشاه: در ۲۴ ر ا پریل شار: ۱۳ بدر ۱۹ ز مارچ شه : ས