فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 262
۲۶۲ تقسیم ہوتا ہے۔فرمایا۔تو پھر کچھ ہرج نہیں۔یہ ایک علیحدہ بات ہے کسی کی خدمت کا حق تو دینا چاہیے۔عرض کیا گیا کہ اس میں فخر و ریاء تو ضرور ہوتا ہے یعنی دینے والے کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مجھے کوئی بڑا آدمی کہے۔فرمایا۔یہ نیت ایصال ثواب تو وہ پہلے ہی خرچ نہیں۔حق الخدمت ہے۔بعض ریاء شرعاً بھی جائز ہیں مثلا چندہ وغیرہ۔نماز با جماعت ادا کرنے کا جو حکم ہے تو اسی لئے کہ دوسروں کو ترغیب ہو۔غرض اظہار و اخفاء کے لئے مواقع ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ شریعت سب رسوم کو منع نہیں کرتی۔اگر ایسا ہوتا تو پھر ریل پر چڑھنا۔تارو ڈاک کے ذریعہ خبر منگوانا سب بدعت ہو جائے ؟ لے دسویں محرم کو خیرات کوخیرا سوال :۔محرم کی دسویں کو جو شربت و چاول و غیر تقسیم کرتے ہیں اگر یہ اللہ بہ بیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے ؟ جواہے :۔فرمایا " ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کرنا ایک رسم و بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔پس اس پر سیز کرنا چاہیئے۔کیونکہ ایسی ریموں کا انجام اچھا نہیں۔ابتداء میں اسی خیال سے مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس لئے ہم اسے ناجائنہ قرار دیتے ہیں۔جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے " کے مُردہ کے لئے قرآن خوانی " مُردہ کے لئے قرآن پڑھنے کے متعلق فرمایا کہ اُسے قرآن کریم کا ثواب نہیں پہنچتا مگر صدقہ و خیرات کا ثواب مُردے کو پہنچتا ہے کیونکہ قرآن کا پڑھنا عبادت ہے۔صدقہ بھی مردے کے اعمال میں نہیں لکھا جاتا بلکہ کسی اور رنگ میں اس کو ثواب ملتا ہے" سے مردہ کا ختم و اسقاط میت سوال ہے :۔مروہ کا ختم وغیرہ جو کرایا جاتا ہے یہ جائز ہے یا نا جائز ؟ بلکه ۱۷ جنوری خنشله -سه-: بدر ۲ از مارچ شاه : ه:- الفضل ۳ جولائی شائر :