فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 261
۲۶۱ مُردوں کو سلام اور اگنے کا سننا سوال -: - السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ جو کہا جاتا ہے کیا مردے سُنتے ہیں ؟ جواب : سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :- و دیکھو وہ سلام کا جواب وَعَلَيْكُمَ السّلام تو نہیں دیتے۔خُدا تعالیٰ وہ سلام جو ایک دُعا ہے پہنچا دیتا ہے۔اب ہم جو آواز سنتے ہیں اس میں ہوا ایک واسطہ ہے لیکن یہ واسطہ مردہ اور تمہارے درمیان نہیں۔لیکن سَلامُ عَلَيْكُمْ میں خُدا تعالے ملائکہ کو واسطہ بنا دیتا ہے۔اسی طرح درود شریف ہے کہ ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دیتے ہیں یہ لے مردہ کی آواز سوال : کیا مُردہ کی آواز دنیا میں آتی ہے؟ : خدا تعالی کی آواز تو ہمیشہ آتی ہے مگر مردوں کی نہیں آتی۔اگر کبھی کسی مردے کی آواز آتی ہے تو خدا تعالی کی معرفت یعنی خدا تعالٰی کوئی خبر ان کے متعلق دے دیتا ہے۔اصل یہ ہے کہ کوئی ہو خواہ نبی ہو یا صدیق یہ حال ہے کہ آن را که خبر شد خبرش باز نیامد اللہ تعالی ان کے درمیان اور اہل و عیال کے درمیان ایک حجاب لکھ دیتا ہے وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔اس لئے فرماتا ہے " فَلَا انْسَابَ بَيْنَهُمْ ، له مرنے پر کھانا کھلانا سوال :۔دیہات میں دستور ہے شادی غمی کے موقع پر ایک قسم کا خرچ کرتے ہیں۔کوئی چودھری مر جاوے تو تمام مسجدوں ، دواروں و دیگر کمیوں کو بحصہ رسدی کچھ دیتے ہیں۔اس کی نسبت حضور کا کیا ارشاد ہے ؟ جواب : سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا : - طعام جو کھلایا جاو سے اس کا مردہ کو ثواب پہنچ جاتا ہے۔گو ایسا مفید نہیں جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں خود کرتا ہے۔عرض کیا گیا حضور وہ خرچ وغیرہ کمیوں میں بطور حق الخدمت : : بدر ۷ ار مارچ منشله ۱۲- فتادی احمدیہ صلا : :