فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 253 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 253

۲۵۳ تھے کہ نماز جنازہ تو ایک دُعا ہے پھر غائب میت کے لئے یہ دُعا کیوں جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :- ہے :- (1) جو جنازہ میں شامل نہ ہو سکیں وہ اپنے طور پر دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھیں “ لے • اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ کا بالعموم طرز عمل یہ ہے کہ مندرجہ ذیل صورتوں میں جنازہ فائب ستحسن وفات پانے والی اہم شخصیت ہو اور مرکز سے جنازہ غائب کی تلقین کی گئی ہو۔(۲) موقع پر جنازہ پڑھنے والا کوئی نہ ہو یا کسی وجہ سے بہت تھوڑے لوگ جنازہ میں شرکت کر سکے (۳) ہوں اور مقامی جماعت نے اس بناء پر بالاتفاق جنازہ غائب کا فیصلہ کیا ہو۔امام وقت کسی خاص وجہ سے کسی مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھنا مناسب خیال کریں یا اس کی ہدایت دیں۔نماز جنازہ کا تکرار ایک میت کی کئی بار نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے اور اس کا جواز مندرجہ ذیل روایات سے ثابت ہے :- (۱) انَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَتْلَى أَحَدٍ عَشْرَةٌ وَفِي كُلِّ عَشْرَةً حَمْرَةٌ (١) (۲) حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ - لَ حضرت امام اعظم کی چھ بار نماز جنازہ پڑھی گئی۔سے سوال :۔نماز جنازہ حاضر یا غائب میں مردوں کے ساتھ عورتوں کی شمولیت کے بارہ میں کیا حکم ہے؟ جواب :۔نماز جنازہ میں عورتوں کی شمولیت کے اہتمام کو پسند نہیں کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے زمانہ میں اور پھر اس زمانہ کے حکم و عدل کے عہد میں اس نماز میں عورتوں کی شمولیت کی کوئی نمایاں مثال ہمیں نہیں ملتی۔البتہ اگر اتفاقی طور پر کوئی عورت شامل نماز ہو جائے۔مثلاً جمعہ یا درس کے لئے عورتیں جمع ہیں اور جنازہ آگیا ہے یا گھر کے صحن میں نماز جنازہ ہو رہی ہے اور صفوں کے پیچھے دو چار عورتوں نے اپنی صف بنا کر نماز پڑھ لی ہے تو ایسی له: - بدر وارمٹی من :- نیل الاوطار ترك الصلوة على الشهيد : مراسیل ابوداؤ دمش ے :- سیرت ائمہ اربعہ ص :