فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 252 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 252

۲۵۲ حضور علیہ السلام نے اپنے صحابہ کو نجاشی کی وفات کی خبر سنائی۔پھر فرمایا اس کے لئے بخشش کی دعا کرو۔پھر آپ اپنے صحابہ کے ساتھ جنازہ گاہ میں آئے اور کھڑے ہو کر اس طرح نماز پڑھائی جس طرح رسامنے پڑے ہوئے) جنانہ سے کی نماز پڑھائی جاتی ہے۔ترمذی نے بھی اسی مضمون کی روایت کی ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں :- عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِن اَخَاكُمُ النَّجَاشِي قَدْمات فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ۔ایک اور روایت ہے :- عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَمْسَعْدِ مَانَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَائِبُ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى عَلَيْهَا وَقَدْ مَعَنَى لِذَابِكَ شَهْراً - له یعنی حضور علیہ السلام باہر تھے کہ ام سعد وفات پاگئیں۔جب ایک ماہ کے بعد آپ تشریف لائے اور آپ کو وفات کا علم ہوا تو آپ نے اس کی نمازہ جنازہ پڑھائی۔مجموعہ احادیث کی مشہور کتاب کشف الغمہ میں ہے :- كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يُصَلَّى عَلَى الْغَائِبِ عَنِ الْبَلَدِ - من کہ حضور علیہ السلام اس شخص کا جنازہ پڑھتے جو مدینہ سے دور کسی دوسری جگہ فوت ہوتا۔غرض اس مضمون کی احادیث صحاح ستہ میں بکثرت آئی ہیں۔اسی بناء پر صاحب نیل الاوطار لکھتے ہیں :- بذالِكَ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَاَحْمَدُ وَجَمْهُورُ السَّلْفِ حَتَّى قَالَ ابْنُ حَزْمٍ لَم يَاتِ مَنْ أَحَدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مَتْعَاءُ - قَالَ الشَّافِعِيُّ الصَّلَوةُ عَلَى الْمَيِّتِ دُمَاء لَهُ فَكَيْفَ رَايُدعى لَهُ وَهِيَ غَائِبُ أَوْ فِي الْقَبْرِ - لله یعنی فقہ کے مشہور عالم حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل اور اکثر بزرگان سلف جنازہ غائب پڑھنے کے قائل تھے مشہور محدث ابن حزم کہتے ہیں کہ کسی صحابی کے متعلق یہ نہیں آتا کہ اپنی جنازہ غائب سے منع کیا ہو۔امام شافعی فرمایا کرتے ه : ترمزی : ه :- ترمذی باب الصلاة على القبر ص : ه: - كشف العمر ص ۲۹ - نیل الاوطار الصلاة على الغائب بالنية و على القبر الى شهر :