فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 251 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 251

۲۵۱ علماء نے کہا ہے کہ آپ کا یہ عمل عبرت اور فعل کی شناعت کے اظہار کے لئے تھا کہ یہ بہت ہی بدی کا کام ہے۔اسی بناء پر حضرت امام ابو حنیفہ - حضرت امام مالک اور بعض دوسرے علماء نے اجازت دی ہے کہ اگر عام لوگ ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھ لیں توکوئی شناعت نہیں لیے تاہم ہماری جماعت اجتناب کو بہتر سمجھتی ہے۔غیر مسلم کی وفات اسلامی معاشرہ میں اگر کوئی غیرمسلم کسی سلمان کے ہاں یا اسلامی معاشرہ میں فوت ہو جائے اور اس کے لواحقین کے لئے اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرناممکن نہ ہو تو تکفین و تدفین کا انتظام مسلمان اپنے طریق پر کر سکتے ہیں۔البتہ غسل دینے کی ضرورت نہیں۔تھ جنازہ غائب کسی عبادت کے جواز کے لئے شرعی سند کا نقد و ضروری نہیں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایک بار بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسا کام کیا جس کا بنیادی تعلق دین و عبادت سے ہے۔اور پھر امام وقت نے اس سند کی بناء پر اس دینی کام کو رواج دیا اور اس میں ایک تسلسل اور با قاعدگی کی طرح ڈالی تو یہ طرز عمل جوانہ و استحسان کے لئے اصول شرعیہ اور قواعد فقہیہ کے عین مطابق ہوگا۔انش اصول کی بناء پر جماعت احمدیہ نما نہ جنازہ غائب کی قائل ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے نجاشی شاہ حبشہ (جو مسلمان ہو چکے تھے) کی نمازہ جنازہ پڑھی تھی جبکہ نجاشی کی نعش ظاہری لحاظ سے عام دستور کے مطابق آپ کے سامنے نہ تھی۔چنانچہ مسند احمد کی روایت ہے :- نَعِلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِي لِاَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ اسْتَغْفِرُ وا لَهُ ُثمَّ خَرَجَ بِاَصْحَابِهِ الْمُصَلَّى ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِهِمُ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ - - ه : نیل الاوطا رباب ترک الامام الصلاة على الخال وقاتل نفسه صلح جلدم : ه: - (الف) ابو داؤد باب الرجل ٣ صـ ۵۲۹ يموت له قرابة مشرك صيها - (ب) جدايه : ١٥٣- مسند احمد :