فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 247
۲۴۷ رکھے۔پھر تیسرا اگلے حصہ کی بائیں جانب کو کندھا دے اور چوتھا پچھلے حصہ کی بائیں جانب کو کندھا دے۔حضرت انس سے طبرانی کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- مَنْ حَمَلَ جَوَابَ السَّدِيرِ الْأَرْبَعَ كَفَرَ اللهُ عَنْهُ اَرْبَعِينَ كبيرة له یعنی جو شخص جنازہ کو چاروں اطراف سے اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چالیسں قصور معاف کر دے گا۔نماز جنازہ میں چار سے زیادہ تکبیریں (1) مسلم ترندی ابو داؤد کی حدیث ہے کہ :۔كان زيْدُ بْنُ اَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَا يُزِنَا اَرْبَعًا وَإِنَّهُ كَبَّرَ خَمْسًا نَسَانَتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْبَرُهَا - له یعنی۔زید بن ارقم کرنے ایک جنازہ پڑھاتے ہوئے پانچ تکبیریں کہیں جب پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی رکبھی کبھی اس طرح چار سے زائد تکبیریں۔کہا کرتے تھے۔عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى أَهْلِ بَدْرِسِتَا وَعَلَى الصَّحَابَةِ خَمْسًا وَ عَلَى سَائِرِ النَّاسِ أَرْبَعًا - له ب : - عَنْ عَلَى أَنَّهُ كَبَرُ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ سِنَا وَقَالَ إِنَّهُ شَهِدَ بدرا له یعنی۔ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بدری صحابہ کے جنازہ میں چھ دوسرے صحابہ کے جنازہ میں پانچ اور عام لوگوں کے جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔بخاری میں بھی اسی مضمون کی حدیث آئی ہے کہ حضرت علی نے ایک بدری صحابی سہل بن حنیف کے جنازہ پر چھ تکبیریں کہیں۔طبرانی الاوسط بحوالہ نیل الاوطار كتاب الجنائز باب حمل الجنازة والسير بها مي: 1 الجودا و ابواب الجنائز باب التكبير على الجنازة ميناء ابن منذر بحوالہ نیل الاوطار صنده به که: بخاری کتاب المغازی میاد و نصب الرايه مي ونیل الاوطار ص۔